مزید خبریں

Jamaat e islami

محمد بشیر ایک دردمند اور بے لوث شخصیت

82 سالہ محمد بشیر ای او بی آئی کے قیام 1976ء سے ہی اس فلاحی ادارہ سے وابستہ رہے ہیں اور آپ نے ادارہ کے ابتدائی برسوں میں انتہائی نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود اس ادارہ کے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور ترقی و ترویج میں بے حد نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آپ ای او بی آئی کے قیام، ابتدائی حالات، ادارہ کے عروج و زوال سمیت کئی اہم واقعات کے عینی شاہد بھی ہیں۔ ای او بی آئی کے قیام کے ابتدائی برسوں میں ادارہ میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی اکثریت بشیر صاحب کے ہاتھوں ہی ٹائپنگ اور دیگر ٹیسٹ پاس کرکے ادارہ میں بھرتی ہوئی تھی۔ بشیر محمد نے 28 فروری 1942ء میں چشتیاں (بہاولنگر) کے ایک چھوٹے سے قصبہ فقیر والی میں جنم لیا۔ اگرچہ آپ کے گھرانہ میں روائتی طور سپہ گری کا رواج تھا لیکن آپ نے سپہ گری کا روائتی پیشہ اختیار کرنے کے بجائے اپنی تعلیم و تربیت کی بدولت دفتری ملازمت کو حصول روزگار کا ذریعہ کا بنایا۔ آپ نے 9 فروری 1967ء میں 200 روپے ماہانہ تنخواہ پر پاکستان انشورنس کارپوریشن کراچی میں ٹائپسٹ کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کے دور میں نجی اداروں کو قومیانے کی پالیسی کے تحت ملک میں صنعت بیمہ داری کے تمام نجی اداروں کو قومیائے جانے کے بعد سرکاری سطح پر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ لہٰذا دیگر ملازمین کی طرح بشیر صاحب کی خدمات بھی نوزائیدہ ادارہ اسٹیٹ لائف کے سپرد کردی گئیں۔ جہاں آپ اسٹیٹ لائف کے جنرل منیجر کے پرسنل اسسٹنٹ کی حیثیت سے تعینات ہوگئے۔
1976ء میں ای او بی آئی کے قیام کے فورا بعد آپ کے انتظامی تجربہ اور صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کی خدمات ای او بی آئی کے سپرد کردی گئی تھیں۔ آپ نے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے مختلف چیئرمین حضرات ڈیم ایم قریشی، این اے جعفری اور پیٹرک سیکویرا کے ساتھ بڑی تندہی اور لگن سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ابتداء ہی سے آپ کا شمار پابندی وقت، مستقل مزاجی اور احساس ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دینے واث ملازمین میں کیا جاتا ہے۔ آپ ایک اصول پسند، سادہ مزاج اور نہایت محنتی انسان واقع ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنی ملازمت کے دوران ہمیشہ کسی لالچ کے بغیر اور کسی بھی اعلیٰ افسر کے دباؤ میں آئے بغیر نہایت محنت سے اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ انہوں نے دوران ملازمت نہایت سادہ انداز میں اپنی زندگی بسر کی ہے اور اپنا بیشتر وقت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرکے گزارا ہے۔ ای او بی آئی اپنے قیام کے ابتدائی پانچ برسوں تک اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ایک ذیلی ادارہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا رہا تھا۔ بالآخر وفاقی حکومت نے 1981ء میں ای او بی آئی کو ایک خود مختار ادارہ کا درجہ دے کر ایک سینئر اور تجربہ کار افسر سید عمران شاہ کو ای او بی آئی کا پہلا چیئرمین مقرر کیا اور پھر محمد بشیر اپنی تجربہ کاری اور کام میں مہارت کے باعث چیئرمین ای او بی آئی کے اسٹاف افسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ ای او بی آئی کے یکے بعد دیگرے چیئرمین حضرات شیخ برکت اللہ،فرحت حسین، محمد شفیع ملک کے ساتھ بھی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ اس دوران محمد بشیر بتدریج ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے عہدہ تک پہنچ گئے اور 28 فروری 2002ء کو 60 برس کی عمر میں ای او بی آئی کی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ بشیر صاحب کی ای او بی آئی کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد ایک کاروباری ادارہ پاک برونائی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ نے بشیر صاحب کی محنتی اور اصول پرست شخصیت، طویل انتظامی تجربہ اور غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں اپنی کمپنی کے شعبہ ترقی انسانی وسائل میں ایک اعلیٰ منصب کے لیے پیشکش کی جو آپ نے قبول کرلی۔محمد بشیر پاک برونائی ہولڈنگ کمپنی میں تقریباً 15 برس تک ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے منسلک رہے۔ اس عرصہ کے دوران کمپنی کے انتظامی امور اور اس کے شعبہ انسانی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کردیا۔ بعد ازاں آپ نے کچھ عرصہ قبل پاک برونائی کمپنی میں ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داری سے سبکدوشی حاصل کرلی۔محمد بشیر سے ہمارا پہلا تعارف 1981ء ای او بی آئی میں شمولیت کے پہلے دن ہی ہوگیا تھا۔ بعد ازاں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس تعلق میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ہمیں یاد ہے کہ اس زمانہ میں دستگیر بلاک نمبر 9 نزد فرزانہ دوا خانہ فیڈرل بی ایریا میں ایک بڑے رہائشی منصوبہ لال شہباز نگر کو اس کا بلڈر نامکمل چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ محمد بشیر بھی اسی نامکمل رہائشی منصوبہ میں سکونت پذیر تھے۔ بلڈر کی غیر ذمہ داری کے باعث لعل شہباز نگر میں پانی بجلی گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی سہولیات میسر نہ تھی۔ انہوں نے لعل شہباز نگر کے اس نامکمل رہائشی منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر جدوجہد کا آغاز کیا اور ہر سطح پر ارباب و اختیار سے تحریری طور پر شکایات کے ذریعہ اپنے مسائل ان تک پہنچائے۔ محمد بشیر کی جانب سے مختلف سرکاری اداروں بشمول اس وقت کے ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کراچی میجر جنرل محمد افضل کو پیش کردہ تمام شکایات اور عرضداشتوں کو خاکسار کو اپنی خوش نویسی کے ذریعہ تحریر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ اس دور میں ملک میں مارشل لاء نافذ تھا اور میجر جنرل محمد افضل کراچی کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ اس عرصہ کے دوران محمد بشیر نے بڑی ثابت قدمی اور بھاگ دوڑ کر کے ارباب و اختیار کے سامنے لعل شہباز نگر کے سینکڑوں مکینوں کو درپیش پانی بجلی اور گیس کے اہم مسئلہ کو اجاگر کیا اور بالآخر اپنے عظیم مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ جس کے بعد انہوں نے لال شہباز نگر میں بجلی کی فراہمی کے لیے کراچی الیکٹرک سپلائی سے بجلی کا سب اسٹیشن تعمیر کرایا، سوئی گیس کا کنکشن حاصل کیا اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے پروجیکٹ میں کئی کنویں بھی کھدوائے۔ اس کے بعد بشیر صاحب نے چند مخلص ساتھیوں کے تعاون سے پروجیکٹ میں روز مرہ امور کی دیکھ بھال اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے لال شہباز نگر ریذیڈنٹس ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈالی اور اس کے تحت اس بڑے رہائشی منصوبہ کے مکینوں کی فلاح وبہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ہمارے بہت سے دفتری ساتھی اقبال احمد، انتصار الحق، محمد مبین، راجہ فیض الحسن فیض، محمد افضل اور محمد اکرم بشیر کی ترغیب پر اپنے ادارہ ای او بی آئی سے ہاؤس بلڈنگ لون حاصل کرکے لال شہباز نگر میں فلیٹس خریدے تھے اور ایک طویل عرصہ تک یہاں مقیم رہے بلکہ ہم تو بشیر صاحب کے ساتھ لعل شہباز نگر ریذیڈنٹس ایسوسی ایشن کا سرگرم حصہ بھی رہے۔ بعد ازاں کچھ عرصہ بعد بشیر صاحب اس ایسوسی ایشن کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر اور اسے اپنے بااعتماد دوستوں کے سپرد کرکے گلستان جوہر منتقل ہوگئے تھے۔
محمد بشیر ای او بی آئی کے ملازمین کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے ملازمین کی آبادکاری کے منصوبہ کے لیے بھی بے لوث انداز میں خدمت سر انجام دیتے رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ای او بی آئی ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی ایک ننھے پودے سے تناور درخت بن گئی ہے۔ اسی طرح جب کچھ عرصہ سے ادارہ سے افسران اور ملازمین کی ریٹائرمنٹ میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تو آپ نے ادارہ کے سبکدوش ملازمین اور متوفی ملازمین کی بیوگان اور یتامیٰ کی فلاح و بہبود کے لیے ای او بی آئی ریٹائرڈ ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ڈالنے کا فیصلہ کیا اور اس تنظیم کو باقاعدہ حکومت سندھ سے رجسٹر بھی کرایا۔ ان کو سرکاری محکموں، سرکاری حکام اور دیگر اداروں سے رابطہ کے لیے انگریزی زبان میں ڈرافٹنگ، خط وکتابت اور مختلف سرکاری قواعد و قوانین پر مکمل عبور حاصل ہے۔ اس لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ ہو یا ریٹائرڈ ملازمین کی ایسوسی ایشن کا بشیر صاحب اپنے طویل دفتری تجربہ اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان سمیت عدالت عظمیٰ اور وفاقی سیکرٹری، سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام اور ادارہ کے اعلیٰ افسران کو نہایت مؤثر انداز میں قانونی نکات اور دلائل کے ذریعہ خط وکتابت کرتے ہیں اور اپنی مستقل مزاجی کے ذریعہ جدوجہد کرکے ریٹائرڈ ملازمین خصوصاً بیوگان اور یتامیٰ کو ان کا جائز حق دلاتے ہیں۔محمد بشیر پیرانہ سالی اور مختلف عوارض میں مبتلا ہونے اور اپنے گھٹنوں میں سخت تکلیف کے باوجود ای او بی آئی کے ملازمین کی فلاح وبہبود کے اور خدمت خلق کے لیے باقاعدگی سے ہر ہفتہ کے دن ایسوسی ایشن کے دفتر واقع دوسری منزل ای او بی آئی ہاؤس (سابقہ عوامی مرکز ) شارع فیصل کراچی میں صبح 10 بجے تا شام 5 بجے تک باقاعدہ دفتر چلاتے ہیں اور اس دوران ادارہ کے سابق ملازمین اور متوفی ملازمین کی بیوگان اور یتامیٰ کو درپیش پنشن، علاج و معالجہ اور دیگر اہم مسائل پر اپنے ساتھیوں سے تبادلہ خیال کرکے اور فون پر رابطہ کرکے ان دیرینہ مسائل کے حل کے لئے خط وکتابت کے ذریعہ حکام بالا سے رجوع کرتے ہیں۔ اس دوران ادارہ کے سابق ملازمین اور ایسوسی ایشن کے ارکان بھی اپنے جائز اور زیرالتوا مسائل کے حل کے لیے بشیر صاحب سے بالمشافہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور فون پر بھی رجوع کرتے ہیں۔ ان کو ہفتہ کے دن ان کے گھر سے ایسوسی ایشن کے دفتر لانے اور واپس پہنچانے کی ذمہ داری ایسوسی ایشن کے خازن سید محمد حیدر کاظمی، سابق سپرنٹنڈنٹ نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔