مزید خبریں

Jamaat e islami

دورانِ عدّت عورت کا گھر سے نکلنا

سوال: (1) میرے دوست کی والدہ عدّت گزار رہی ہیں۔ ان کی آنکھ میں کچھ تکلیف ہوگئی ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر کے پاس جا سکتی ہیں؟ اور اگر ڈاکٹر آپریشن کے لیے کہے تو کیا وہ اسپتال میں داخل ہو سکتی ہیں؟
(2) میرے شوہر کے انتقال کو دو ماہ ہوگئے ہیں۔ اس ہفتے میرے B.A کے امتحانات ہیں۔ کیا میں دورانِ عدّت امتحان دینے کالج جا سکتی ہوں؟
(3) میرے پھوپھا کا ابھی چند دنوں قبل انتقال ہوگیا۔ ان کا ایک بیٹا ان کے ساتھ رہتا تھا۔ دوسرے بیٹے ملازمت کے سلسلے میں دوسرے مقامات پر مقیم ہیں۔ ایک بیٹا اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ کیا عورت جہاں شوہر کے ساتھ رہتی تھی، اس کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر عدّت گزار سکتی ہے؟
(4) میری ایک رشتے دار خاتون کی عدّت پوری ہونے میں ابھی ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ کیا وہ اس دوران میں حج کے لیے جا سکتی ہیں؟
جواب: عدّت کے دوران عورتوں کو گھر میں ٹِک کر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
’’اور مطلّقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں‘‘۔ (البقرہ: 228)
’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن تک خود کو روکے رکھیں‘‘۔ (البقرہ: 234)
’خود کو روکے رکھنے‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ اس عرصے میں دوسرا نکاح نہ کریں۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو عدّت کے دوران گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ سیدنا فْریعہ بنت مالکؓ (سیدنا ابو سعید خدریؓ کی بہن) نے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
’’عدت پوری ہونے تک اپنے گھر میں رہو‘‘۔ ( ابو داؤد)
البتہ اگر کوئی عذر ہو تو عورت حسبِ ضرورت گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ مثلاً وہ بیمار ہوجائے تو ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے، کسی آپریشن کی ضرورت ہو تو اسپتال میں ایڈمِٹ ہو سکتی ہے، وہ کہیں ملازمت کرتی ہو اور اسے رخصت نہ مل پا رہی ہو تو وہ ملازمت جوائن کر سکتی ہے، وہ تعلیم حاصل کر رہی ہو اور اسے امتحان دینا ہو تو وہ امتحان ہال تک جا سکتی ہے، اس کی زمین جائیداد پر کوئی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو تووہ پولیس تھانے یا عدالت جا سکتی ہے، وغیرہ۔
اسی طرح عورت وقت ِ ضروت کسی دوسری جگہ منتقل ہو کر عدّت گزار سکتی ہے۔ مثلاً وہ جس گھر میں شوہر کے ساتھ رہتی تھی وہ کرایے پر ہو اور مالکِ مکان اسے خالی کروانے پر بہ ضد ہو، یا عورت تنہا رہ گئی ہو اورگھر میں اس کا تنہا رہنا پْر خطر ہو، یا وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں کسی سہارے کی محتاج ہو۔ عورت جہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی، وہاں اب بھی اس کا ایک بیٹا رہتا ہو تو دوسرے بیٹے کے ساتھ اس کا کہیں اور منتقل ہونا درست نہیں ہے۔
عدّت کے دوران عورت کا سفر حج پر جانا صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حج پر جانا کوئی مجبوری اور عذر نہیں ہے۔ عدّت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی حج کیا جا سکتا ہے۔