مزید خبریں

Jamaat e islami

کتاب زندگی کا بہترین رہنما ساتھی ہے ،ابوبکرشیخ

بدین(نمائندہ جسارت) کتاب زندگی کا بہترین رہنما ساتھی ہے، دنیا میں انقلاب اور دور جدید کی ترقی کتاب کے علم کا ہی نتیجہ ہے،ینگ مسلم کھتری ویلفیئر سوسائٹی کے زیراہتمام کتاب کی اہمیت پر گفتگو۔ینگ مسلم کھتری ویلفیئر سوسائٹی کے زیراہتمام کھتری کمیونٹی ہال میں کتاب کارنر کے دوسرے سیشن میں کتاب کی اہمیت اور مطالعے کی عادت پر جاری گفتگو میں بدین کے علمی ادبی سماجی شخصیات طلبہ اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر نامور محقق تاریخ دان اور مصنف ابو بکر شیخ نے کتاب دور سکندر میں قدیم سندھ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی قدیم اور تاریخی تہذیب ثقافت علم ادب معاشی ترقی رسم و رواج کی ہر تفصیل آج بھی کتابوں میں محفوظ ہے اور یہ علم کا خزانہ آج کے طلبہ اور طالبات کی رہنمائی کے لیے انمول اور قیمتی تحفہ ہے۔اس موقع پر سوال و جواب کی نشست میں علمی ادبی سماجی شخصیات خادم ٹالپور پروفیسر ارباب علی پھلپھوٹو امر سومرو رفعت نوید عمران جونیجو نصرت جعفری صلاح الدین کھتری صدر ینگ کھتری ویلفیئر سوسائٹی اللہ نواز کھتری سیکرٹری محمد امین کھتری عبدالجبار حبیبانی مصطفی یوسف عبدالحمید صدیق عبدالجبار محمود اور دیگر شریک گفتگو نے کہا کہ کتابیں زندگی بھر کی ساتھی ہیں، کتابیں پڑھنا ہماری یادداشت کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کرتی ہیںوہ ہمیں اپنے ماضی کے تجربات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ کتابیں پڑھنے سے ہمیں آرام اور تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔کتابیں دنیا کا سب سے بڑا علم کا ذخیرہ ہیں۔کتابیں پڑھنا ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد پر توجہ دینے میں مدد دیتی ہیں کتابیں بچوں کو بہترین طالب علم بننے میں مدد دیتی ہیں کتابیں پڑھنا نئی صلاحیتوں کے حصول میں ہماری مددکرتی ہیں۔کتابیں نئے حقائق کی دریافت اور نئے خیالات کی ترقی میں معاون ہیں جبکہ تفریح کا بہترین ذریعہ کتابیں پڑھنا ہے اور کتاب دنیا کے ہر انسان کے لیے انتہائی قیمتی ہیں اور اس کے ارتقا میں معاون ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معلومات اور علم کی دولت موجود ہے۔ کتابیں بدلے میں کسی چیز کی توقع کیے بغیر ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں۔ کتابیں ہم پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ہماری روح کو بھی قرار دیتی ہیں۔شرکا کا کہنا تھا کہ کتابوں کو اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ پر بھی پڑھ سکتے ہیں۔اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم کتابوں کو سن بھی سکتے ہیں۔ گلوبل ویلیج کے تصور کے بعد ہمیں دوردراز کا سفر کرنے اور کتاب خانوں کو چھاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان تمام لوگوں کی کتابوں کا مطالعہ گھر بیٹھے بھی کر سکتے ہیں۔