مزید خبریں

نو منتخب ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھالیا ، وزیر اعظم کا انتخاب اتوار کو ہوگا

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا جس کے بعد اجلاس آج جمعے کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس صبح 10 بجے شروع ہونا تھا تاہم اجلاس مقررہ وقت کے ایک گھنٹے بعد شروع ہوا۔سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب ،بیرسٹرگوہر،علی محمد خان نے بھی حلف اٹھا لیا، استحکام پاکستان پارٹی کے علیم خان کو دستخط کرنے بلایا گیا تو سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے۔ حلف برداری کے بعد سنی اتحاد کونسل کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔ایجنڈے کے مطابق افتتاحی اجلاس کے آغاز پر تلاوت کلام پاک، حمد وثنا اور قومی ترانہ پڑھا گیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کل ہفتے کو دن 2 بجے تک جمع ہوں گے اور کاغذات کی اسکروٹنی 3 بجے ہوگی۔اسی روز لسٹ جاری کردی جائے گی اور نئے قاید ایوان کا انتخاب 3مارچ اتوار کو ہوگا۔ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے شہباز شریف امیدوار ہوں گے جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب خان میدان میں ہوں گے۔ شہباز شریف کو دوسری بار وزیراعظم بننے کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو 200 سے زاید ارکان کی حمایت حاصل ہے۔قومی اسمبلی کے جمعرات کو منعقد ہونے والے اجلاس میں336میں سے 302ممبران قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور رول آف ممبر پر دستخط کیے جس میں نامزد اسپیکر سردار ایاز صادق، ڈپٹی اسپیکر، آصف زرداری، بلاول بھٹو، نواز شریف، نامزد وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور لیگی رہنما مریم اورنگزیب بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھیں۔آزاد اراکین نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ماسک پہن کر ایوان میں احتجاج کیا، آزاد امیدوار پی ٹی آئی کے جھنڈے بھی ایوان میں لے آئے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے اسپیکر نشست پر کھڑے ہوکر بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے سردار ایاز صادق اور ملک محمد عامر ڈوگر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ ایوان میں آج اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا۔قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے لیے سید غلام مصطفی شاہ اور جنید اکبر کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرائے گئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستوں پر سیکورٹی انتہائی سخت کی گئی۔ ریڈ زون میں داخلے کے لیے سرینا چوک، نادرا چوک اور ڈی چوک والے راستے بند ہیں جبکہ ریڈزون میں داخلے کے لیے مارگلہ روڈ کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ریڈزون جانے والے راستوں پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے، گاڑیوں کی مکمل چیکنگ کے بعد ریڈ زون میں داخلے کی اجازت دی گئی۔علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے نگراں وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری کے لہجے اور لگائے گئے الزامات پر تحفظ کا اظہار کردیا۔صدر عارف علوی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کو عام طور پر سمریوں میں ایسے مخاطب نہیں کیا جاتا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے صدر مملکت کو پہلے صیغے میں مخاطب کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیراعظم نے سمری میں ناقابل قبول زبان استعمال کی اور بے بنیاد الزامات لگائے۔ صدر مملکت نے اپنے حلف اور ذمے داریوں کے مطابق ہمیشہ معروضیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ صدر انتخابی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور حکومت قائم کرنے کے عمل سے غافل نہیں ہو سکتا۔ صدر کو قوم کی بہتری اور ہم آہنگی کے لیے قومی مفاد کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق سمری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے عین مطابق واپس کی گئی۔ مقصد آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی کی تکمیل تھا تاہم میرے عمل کو جانبدار عمل کے طور پر لیا گیا۔ قرارداد مقاصد کے مطابق عوام کو اپنے ملک کے ایگزیکٹو فیصلوں سے میں حصہ لینے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔