مزید خبریں

امداد لینے کیلیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ،100سے زاید شہید

غزہ/واشنگٹن/مقبوضہ بیت القدس (خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) غاصب اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوب مغربی علاقے میں امداد کے منتظر نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ کی جس کے باعث 104 فلسطینی شہید اور 750 کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے عام شہریوں پر شیلنگ کی گئی۔7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے وحشیانہ اقدام اور معصوم افراد کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قحط کی صورتحال سے دوچار امداد کے منتظر عام شہریوں پر حملہ اسرائیل کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کا حصہ ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری جنگ بندی ہی عام شہریوں کے قتل عام کو روکنے کا واحد ذریعہ ہے۔عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اسرائیل کے ساتھ تمام مذاکرات روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ مذاکرات نہتے اور لاچار فلسطینی قوم کے خون سے زیادہ اہم نہیں، اسرائیل نے 146 دنوں سے جاری حملوں میں بھوکے اور پیاسے نڈھال فلسطینیوں کی اجتماعی نسل کشی کی ہے۔حماس کا کہنا تھا کہ غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی حملہ جنگی جرم اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے مکمل طور پر بے گھر کرنے اور فلسطینی کاز کو مٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوری طور پر اجلاس بلائیں اور غزہ میں بڑے پیمانے پر قتل عام اور نسل کشی روکنے کے لیے کارروائی کریں۔حماس نے یہ بھی کہا کہ عرب ممالک فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے بارے میں خاموشی توڑیں اور غزہ میں خوراک اور طبی امداد پہنچانے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں۔ حماس نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری فلسطینیوں کے بڑے پیمانے پر قتل کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے میں سعودی عرب سے تعلقات استوار کرنے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔اسرائیلی وزیر ایلی کوہن کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے بدلے سعودی عرب سے تعلقات قائم نہیں کریں گے،علاقائی تعلقات میں توسیع کی قیمت فلسطینی ریاست کا قیام ہے تو یہ قبول نہیں۔ایلی کوہن نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ایک ریاست کے قیام کے بغیر امن معاہدہ کرنا ممکن ہے۔قبل ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے دعویٰ کیا کہ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رمضان کے دوران غزہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے،سعودی عرب اور دیگرممالک غزہ میں جنگ بندی پراسرائیل کوتسلیم کرنے پرتیار ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن کے حوالے سے پہلے یرغمالیوں کو رہا کیا جانا چاہیے،رمضان قریب ہیں اور اسرائیل نے اس دوران بمباری نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی سے اس سمت میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا جس پر سعودی عرب، اردن، مصر سمیت دیگر ملک اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔