مزید خبریں

تبلیغ کی اجازت ملنے پر قادیانی فساد برپا کریں گے ، عبدالحق ہاشمی

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت دی گئی تو یہ فساد برپا کریں گے، آئین وقانون کے تحت قادیانی خودکو مسلمان نہیں کہہ سکتے، مسلم حکمرانوں کی امریکی غلامی، اقتدار کی حوس کی وجہ سے فلسطین تباہ ہوا، اگر یہی صورتحال رہی تو آہستہ آہستہ مسلم مملکتوں پر یہود و نصاریٰ کا قبضہ ہو گا، الیکشن کو سلیکشن، انتخابات کو کاروبار کا ذریعہ ، ہارے ہوئے کو جتوانے والے ملک و ملت کے دشمن ہیں، کراچی سمیت ملک بھر کے اکثرعلاقوں کے نتائج راتوں رات تبدیل کرکے کچھ قوتوں نے بہت مال کمایا، یہی مال ان کے لیے ناسور بنے گا، حرام مال میں سکون تلاش کرنے والے ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قادیانی مسئلہ پر دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کریں، قوم کو اعتماد میں لیں غلط بیانی ،پروپیگنڈے، نفرت رکوانے کے لیے قوم کو اعتماد میں لینے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ قادیانی آئین پاکستان، اسلام کو تسلیم کرتے ہیں نہ محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، انہیں اقلیتوں کو ملنے والے تمام حقوق اسی صورت حاصل ہوں گے جب وہ آئین کو تسلیم کریں اور کھل کر یہودی عیسائی یا غیر مسلم رہے، مسئلہ قادیانیت پر چیف جسٹس کے بیان اور فیصلہ سے قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ جماعت اسلامی نے 26فروری کو وکلا سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اُمید ہے کہ چیف جسٹس اس سے قبل ہی فیصلہ کو واپس لیں گے۔ ہر مسلم کو فلسطینی عوام کی کم ازکم مدد کرنے کے لیے اسرائیلی یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، قوم نے جنہیں مینڈیٹ دیا حکمران، مقتدرقوتیں انہیں تسلیم کریں زورزبردستی، لاڈلوں سپرلاڈلوں کو مسلط کرنے سے مسائل و پریشانیوں میں اضافہ ہو گا، 8 فروری کا الیکشن قوم سے مذاق تھا، 70 ارب جعلی مشق پر ضائع کرکے ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ومذاق کیاگیا، اس متنازعہ الیکشن کے نتیجہ میں بننے والی جعلی حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی، مینڈیٹ چوری، ووٹوں، اسمبلی سیٹوں کی خرید وفروخت بدعنوانی کی اعلیٰ قسم اور قوم کے ساتھ مذاق ہے جو کسی صورت معاف کرنے کے قابل نہیں، عوام نے جن لاڈلوں،بدعنوانوں، بار بار مسلط ہونے والوں سے نجات کے لیے ووٹ دیے بدقسمتی سے ملت کے دشمن انہیں دوبارہ مسلط کرنے کی سازش کر رہے ہیں، اسٹبلشمنٹ واداروں نے غیر جانبداری کا مظاہرہ نہ کر کے قوم کے اعتماد کو مجروح کیا، ملک کی آبادی کا 65فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، متنازعہ الیکشن وراتوں رات نتائج میں تبدیلی سے نوجوانوں ووٹرزو عوام کو جمہوریت پر اعتماد کو ٹھیس پہنچی، جماعت اسلامی جمہوریت، سویلین بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی ، قوم کی نظر میں اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور الیکشن کمیشن غیر جانبداری اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ الیکشن نتائج میں تبدیلی نے قوم کی خواہشات ارمانوں اور خوابوں کو چکنا چور کر دیا، جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں نے اس الیکشن کے نتائج پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا ۔ انتخابات کے نتائج کو تبدیل، غیر منصفانہ الیکشن کروانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور نگراں حکومت پر عائد ہوتی ہے۔