مزید خبریں

سیرت النبی ﷺپر عمل سے معاشرے میں تبدیلی آسکتی ہے،بین الاقوامی کانفرنس

حیدرآباد (پ ر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں تیسری 2 روزہ بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس اسکالر زکے مقالات اور سفارشات کے ساتھ اختتام پذیرہوگئی ۔کانفرنس میں اندرون ملک اور بیرون ملک کے اسکالر زنے مقالات کانچوڑ پیش کیا۔وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر طیبہ ظریف نے کہاکہ سیرت النبی کانفرنس کے اسکالرزنے نہایت عمدہ مقالات پیش کیے ہیں ضرورت اس بات کی ہے، ان پر عمل ہوناچاہیے اگر جزوی طورپر بھی عمل ہوتاہے تومعاشرے میں خوشگوارتبدیلی آسکتی ہے۔ جی سی یونیورسٹی حیدرآبادمعاشرے کے لیے تھنک ٹینک کاکرداراداکررہی ہے۔ کانفرنس کی سفارشات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آبادبھیجی جائیںگی اور مفادِعامہ کے لیے شائع کی جائیں گی۔ دوسرے روز کانفرنس کی صدارت چیئرمین اسلامک اسٹڈیز، تھوٹکس اینڈ کلچر نمل یونی ورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر ریاض سعید نے کی۔ کراچی کے اسکالر شاکرحسین، تقابل ادیان جامعہ ٔ سندھ جامشوروکی ڈاکٹر تنویر ہما انصاری، شعبۂ سیاسیات جامعہ ٔ کراچی کے اسکالر ڈاکٹر سید شمیل قادری،عربیک اسکول کراچی کی بی بی صائمہ امان اللہ،اعجازعلی سدھڑ،جامعۂ سندھ کے امجدعلی ہالو،پروفیسر عبیداللہ لاکھیر،شعبۂ اسلامیات جامعۂ سندھ فاروق احمد چناودیگر نے مقالات کے خلاصے پیش کیے اورتجاویز دیں۔ ڈاکٹر ریاض سعید نمل اسلام آباد نے کہا کہ مکے میں اہل مکہ کوخون خرابے سے بچایا۔ اللہ کے رسول نے مدینے پہنچ کر میثاق مدینہ کیا۔عیسائی علماء کاوفد آیاتو اللہ کے رسول ؐ نے مکالمہ کیا،کھانے کاوقت ہواتوکھاناپیش کیااور عبادت کے لیے جگہ فراہم کی،مکالمہ راہیں کھولتاہے سیرت رسول ﷺ سے مسلسل رہنمائی ملتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے ڈائیلاگ کاراستہ اپنایا جائے، کراچی کے اسکالر شاکرحسین نے کہاکہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی عیسائیوں کی ہے لیکن ایک سازش کے تحت عیسائیوں کو مسلمانوں سے لڑوایا گیا ہے، حالانکہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ نزدیک نصاریٰ یعنی عیسائی ہیں۔ اسلام امن وآشتی کادین ہے جبر کے خلاف ہے اور قدر مشترک پر بلاامتیاز تمام انسانوں کو جمع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ تقابل ادیان جامعہ ٔ سندھ جامشورو کی ڈاکٹر تنویرہماانصاری نے کہاکہ ہردور میں انسان بہت سے مسائل سے دوچار رہتاہے، اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے سیرت طیبہ کی روشنی میںایک ایسانظام اپنانے کی ضرورت ہے جس میں اسلامی اُصولوں کے مطابق اخلاقی اور مادی ترقی دونوں شامل ہوں، کیونکہ انسان کے لیے اخلاقی اور مادی ترقی کے لیے توازن ضروری ہیں اور یہ ضرورت سیرت رسول ؐپوری کرتی ہے۔ کانفرنس ڈاکٹر مخدوم محمدروشن صدیقی نے کانفرنس کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں شہریوں کی سب سے بڑی ذمہ داری پڑوسیوں کے حقوق کی ادائی ہے ان کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ ملازمت کا مقام، مسافر اور ریاستیں بھی پڑوسی ہیں، ماحولیات کودرست رکھنا ہے کہ ماحول افرادسے بنتاہے اردگردصفائی ستھرائی کا معیار قائم کرنا چاہیے۔ ضرورت مندوں کی مددہم پر فرض ہے وبااورمصیبت کے علاوہ عام حالات میں بھی ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہیے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے عصبیت سے بچنا چاہیے اوردوسروں کوبھی بچاناچاہیے عصبیت کیا ہے، اپنے ظالم لوگوں اور ریاستوں میں ان کی مدد کرنا، مذاہب عالم کا احترام کرنا، آپ ﷺ نے فرمایاکہ اگر کسی نے غیر مسلم کاحق کھایاتومیں قیامت میں اس کے حق لیے اس کے ساتھ کھڑا ہوں گا، غیر مسلموں کا حق ادا کیا جائے، تعلیم عام کی جائے عصری، نقلی اور جدید علوم کو فروغ دیا جائے، سماجی انصاف نافذ کیا جائے اور اسے فروغ دیا جائے، بڑوں کی عزت کی جائے اور بچوں سے شفقت کا برتائو کرنا چاہیے، معافی اور درگزر کا کلچر عام کیا جائے، جسمانی صحت، معاشی مساوات، شہریوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے ماحول پیدا کرنا و ویگر ہیں۔