مزید خبریں

Jamaat e islami

باڈہ: تحصیل کا درجہ نہ دیئے جانے کیخلاف تعلقہ موومنٹ کا احتجاج

باڈہ (نمائندہ جسارت) پیپلزپارٹی حکمرانوں نے باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ نہیں دیا، شہری گزشتہ 5 سال سے سراپا احتجاج ہیں۔ لاڑکانہ ضلعے کے دوسرے بڑے شہر 14 وارڈوں پر مشتمل باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے لیے باڈہ تعلقہ موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر زیب علی ساریو اور کامریڈ قادر بروہی کی قیادت میں باڈہ میڈیا ہاؤس سے ٹاؤن ہال تک ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے نعرے درج تھے۔ مظاہرے میں شہر کی سیاسی سماجی علمی ادبی صحافتی اور کاروباری تنظیموں کے رہنماؤں علی انور عسکری، کامریڈ دو دو دیشی، کامریڈ منور نوناری، کامریڈ اصغر نوناری، عبدالخالق سومرو، نور ساریو، جاوید مغیری، مہران راجپر، مظہر نوشاد پھلپوٹو، طاہر نور ہیسبانی، محمد امین سیال، زاہد پٹھان، فقیر جلال ساریو، علی زہری، سرائی سوڈھو، کوڑل ملاح، جونیئر نوشاد پھلپوٹو، ہالار خان بھٹی اور دیگر شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر زیب علی ساریو، کامریڈ قادر بروہی، علی انور عسکری اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی حکمرانوں نے گزشتہ 15 سال سے باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ نہ دے کر باڈہ مکینوں کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے، پیپلزپارٹی کے سابق 2 وزرائے اعلیٰ سید مراد علی شاہ، سید قائم علی شاہ اور مقامی رہنماؤں نے مختلف عوامی جلسوں میں باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ دینے کے اعلانات اور وعدے کیے ہیں جن کو آج تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا جس وجہ سے مکینوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تھوڑے عرصے میں کیماڑی کو ضلع بنایا اور باڈہ سے چھوٹے شہروں کو تحصیل کا درجہ دیا لیکن پھر بھی باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ نہیں دیا جس وجہ سے باڈہ مکینوں میں غم و غصے کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری کر کے مکینوں میں پھیلی بے چینی ختم کی جائے ورنہ تحصیل کا نوٹیفکیشن ملنے تک باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے پرامن احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔