مزید خبریں

Jamaat e islami

اندرون سندھ الیکشن میں دھاندلی کیخلاف جے یو آئی کا احتجاج

سکھر/ لاڑکانہ/ میرپورخاص/ شکار پور/ پڈعیدن (نمائندگان جسارت + جسارت نیوز) اندرون سندھ میں الیکشن میں دھاندلی کے خلاف جے یو آئی (ف) کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ سکھر میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی جانب سے قومی شاہراہوں پر احتجاجی دھرنے کی کال پر مختلف شہروں کی طرح سکھرببرلوء بائی پاس (قومی شاہراہ) پر کارکنان کی کثیر تعداد نے جے یو آئی سکھر کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد صالح انڈھڑ کی قیادت میں احتجاج کیا اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی۔ جمعیت علماء اسلام کی جانب سے 26 سے زائد قومی شاہراہوں پر دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی، شرکاء دھرنے نے ہاتھوں میں جماعتی جھنڈے اور الیکشن کمیشن کے خلاف تحریری پلے کارڈ اور بینرز تھام رکھے تھے، دھرنے میں جمعیت علماء اسلام کے دیگر رہنمائوں میں مفتی سعود افضل ہالیجوی، حافظ غلام محمد کندھر ، مولانا عبدالکریم عباسی ، مولانا اسد اللہ بھیو، حافظ عبدالحمید ، مولانا زبیر احمد مہر ،قاری عبدالغفار سومرو ، مولانا عبدالکریم جونیجو ،فاروق شیخ امیر بخش عرف میر مہر و دیگر شامل تھے۔ اس موقع پرمذکورہ رہنماؤں و علماء کرام سمیت اُمیدواروں کا کہنا تھا یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے جو قبول نہیں، تمام حلقوں میںالیکشن کمیشن کی جانب سے من پسند رزلٹ کا اعلان کیا گیا ہے جو عوام کے ووٹ سے خیانت ہے، ایجنٹ کو پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے فارم45 تک نہیں دیے گئے، انتخابی رزلٹ کو جان بوجھ کر تاخیر کا نشانہ بنایا گیا تاکہ پسندیدہ اُمیدواران کو کامیاب کرایا جا سکے۔ لاڑکانہ میں انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے مبینہ دھاندلی کے خلاف جے یو آئی سندھ کی جانب سے صوبائی سیکرٹری مولانا جنرل راشد خالد محمود سومرو کی قیادت میں لاڑکانہ بائی پاس گاؤں سچی بخش جاگیرانی کے مقام پر دھرنا دیا گیا جس میں جے یو آئی کے رہنما ناصر خالد محمود سومرو، جے ڈی اے کے رہنما کاظم علی عباسی سمیت جے یو آئی، جے ڈی اے اور لاڑکانہ عوامی اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد خالد محمود سومرو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما کے بھائی نے مخالفین کے دروازوں پر جا کر تقریر کی اور انہیں گالیاں دیں اور پھر رات گئے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کیا گیا جس کے نتیجے میںجی ڈی اے سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھیوں کے جنازے اُٹھائے گئے، یہاں کے حکمران مست گھوڑے بن چکے، جو سندھ کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ سندھ ان کی جاگیر نہیں اور نہ ہم ان کے غلام ہیں، ہم آزاد ہیں اور آزاد رہیں گے، ہمارا کسی کی ذات یا کسی شخصیت سے کوئی لڑائی نہیں، بلکہ ہماری لڑائی سندھ، سندھ کی حقوق، سندھ کے غریبوں، ناداروں اور محنت کشوں، سندھ کے وسائل اور جزیروں کی حفاظت اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، کارونجہر سے کشمور تک سندھ کی زمینوں کی حفاظت کرنا ہے، دھرنے کا مقصد اور نکتہ یہ ہے کہ 8 فروری کے انتخابات میں ہمارے مینڈینٹ کو چرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نگراں حکومت بن رہی تھی تو آصف علی زرداری کی مرضی سے نگراں وزیر اعلیٰ اور نگراں کابینہ بنائی گئی جس کے بعد حلقہ بندیاں کی گئیں جن کے خلاف جی ڈی اے، جے یو آئی، ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ ن اور قوم پرست جماعتیں الیکشن کمیشن چلی گئیں جہاں انہوں نے ہماری تمام درخواستیں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور پیپلز پارٹی کی 100 فیصد درخواستوں کو منظور کیا گیا اور ووٹرز کو نکال کر 5، 5 یوسیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے ووٹرز کو تبدیل کیا گیا، پھر ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، مختارکار، ڈی آر اوز اور آر اوز تعینات کیے گئے جنہیں پیپلز پارٹی نے 20 سالوں کے لیے بھرتی کیا تھا اور ان کو پوسٹنگ دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ اگر آئندہ پوسٹنگ لینی ہے تو ہمارے مرضی کے نتائج دینے ہوں گے، الیکشن کی رات لاڑکانہ اور سکھر ڈویژنوں کے ہر حلقے پر 50، 50 ہزار جعلی ووٹ پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کو دلوائے گئے اور عملے نے ٹھپے لگوائے جو ثبوت ویڈیوز کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں، بعد میں نیٹ ورک بند کیا گیا تاکہ ہم وہاں پہنچ نہ سکیں اور ہم تک کوئی اطلاع نہ پہنچ سکے، بندوق کے زور پر ہزاروں افراد کو پولنگ اسٹیشن کے اندر بٹھاکر ٹھپے لگوائے گئے، پریزائیڈنگ اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے ڈبوں کو بھر دیا اتنی بڑی دھاندلی اور 50، 50 ہزار جعلی ووٹوں کے بھی پیپلز پارٹی اور زرداری کے نمائندے ہار چکے اور جے یو آئی کے اُمیدوار کامیاب ہوئے اور جب گنتی شروع ہوئی تو آر اورز نے ہمیں لکھ کر دیا کہ آپ کے اُمیدوار ہارچکے ہیں پیپلز پارٹی اور زرداری کے نمائندے جیت گئے ہیں، ٹھل کے آر او نے 13 پولنگ سٹیشنز کے لیے لکھا ہے کہ ان کے دفتر سے 13 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج، ڈبے اور فارم 45 گم ہو گئے ہیں اب اپنی چوری چھپانے کے لیے 13 پولنگ سٹیشنوں کے ڈبے، ووٹ اور فارم 45 بھی گم ہوگئے، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں میں میرے کارکنوں کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں، انہوں نے بلاول اور زرداری کے کہنے پر میرے کارکنوں کو مارا ہے۔ میرپورخاص میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف علامہ راشد محمود سومرو کی کال پر سندھ بھر میں ٹول پلازہ پر دھرنے دیے گئے، جمعیت علماء اسلام میرپورخاص کے رہنما رفیق سومرو، مولانا حفیظ الرحمن فیض، قاری محمد قاسم، مفتی زبیر احمد کی قیادت میں ٹول پلازہ پر دھرنا دیا گیا اور جے یو آئی فورس سمیت کارکنان نے ٹول پلازہ کو بلاک کردیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک قائدین کا حکم ہے دھرنا جاری رہے گا، دھرنے کے باعث میرپورخاص حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازہ کے مقام پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کی روانی معطل رہی، اس موقع پر کارکنان کی نعرے بازی کرتے رہے۔ بعد ازاں دھرنے کے شرکاء منتشر ہو گئے، الیکشن میں دھاندلی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے مدینہ مسجد سے مارکیٹ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی میرپور خاص کے ضلعی امیر حاجی نور الٰہی مغل، مفتی تحسین احسن بھٹو، عاصم شیخ، ڈاکٹر مسعود عباس، عرفان قریشی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت عالمی اداروں کے آلہ کار اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی کے ممبران کو قومی اسمبلی میں جانے سے روکا ہے تاکہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو پامال کیا جاسکے، ٹرانسجینڈر جیسے بیہودہ قانون، سود، اسٹیٹ بینک کو آزاد ادارے، ملکی اداروں کو عالمی طاقتوں کو گروی کرنے اور بدترین معاشی حالات و بحران پیدا کرکے ایٹمی صلاحیت سے دستبرداری کا بل منظور کرایا جاسکے۔ شکارپور میں دھاندلی کے خلاف قومی شاہراہ سکھر شکارپور روڈ اور انڈس ہائے وے پر دھرنے دیے گئے، انڈس ہائے وے پر قاری مجیب الرحمٰن، پی ایس 7 کے امیدوار آغا تیمور خان پٹھان حافظ رفیق شر مولوی محمد طیب میکھو اور نیشنل ہوئے وے پر مولانا عبداللہ مہر مولوی غلام اللہ ، مولوی تاج محمد اور دیگر کی قیادت میں دھرنا دیاگیا، دھرنے کی وجہ سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب جانے والے راستے پر ٹریفک معطل ہو گئی، مظاہرین نے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شدید نعرے بازی کی احتجاج اور دھرنوں کے باعث ٹریفک معطل اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ اس موقع پر جے یو آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ الیکشن 2024 میں پلاننگ کے ساتھ دھاندلی کرکے جمعیت علمائے اسلام کے اُمیدواروں کا مینڈیٹ چرایا گیا ، ایک سازش کے تحت جمعیت علماء اسلام (ف) کو دیوار سے لگانے کی سازش کی جارہی ہے، جے یو آئی کے کامیاب اُمیدواروں کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں، سندھ کے مختلف حلقوں میں دھاندلی کی گئی ہے، ہم ان دھاندلی زدہ نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں، دھاندلی کے بعد بھی سلیکشن ہوئی ہے، دھاندلی زدہ نتائج کو عوام تسلیم نہیں کرے گی۔ پڈعیدن میں انتخابی نتائج میں ردوبدل اور دھاندلیوں کے خلاف مولانا راشد محمود سومرو کی کال پر جے یو آئی کی جانب سے نیشنل ہائی وے روڈ مورو بائی پاس پر دھرنا دے کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام ضلع نوشہرو فیروز کے صدر مولانا عبدالرحمٰن ڈنگراج کی قیادت میں دھرنے میں جے یو آئی کے کارکنان شریک ہیں۔ دھرنے سے نیشنل ہائی وے روڈ کے دونوں اطراف ٹریفک کی آمد و رفت مکمل رک جانے سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، 8 گھنٹے سے کارکنان نے شاہراہ بلاک رکھی ہوئی ہے۔ مقامی رہنمائوں مولانا عبدالرحمن ڈنگراج، مولانا عبدالرشید بروہی، عبدالمالک ابڑو، مولانا حافظ عبدالحق راجپوت نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج تبدیل کیے، ایسے متنازعہ نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔