مزید خبریں

Jamaat e islami

اسرائیلی بمباری میں حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جواں سال بیٹا شہید

غزہ/لندن( مانیٹرنگ ڈیسک +خبر ایجنسی ) حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم ہنیہ اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔24گھنٹے کے دوران اسرائیلی بمباری سے مزید 117فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی مظالم کیخلاف یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ تفصیلات کیمطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت سے تعلق  کھنے والے معروف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اطلاع دی گئی ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا۔مقامی فلسطینی میڈیا نے ان سوشل میڈیا دعوے کی بنیاد پر کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے لڑاکا طیاروں نے غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جس سے عمارت مکمل طور پر تبا ہوگئی۔مقامی میڈیا کے مطابق ممکنہ طور پر اس عمارت میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کچھ افراد مقیم تھے۔ حملے میں اسماعیل ہنیہ کے بیٹے حازم ہنیہ کی شہادت کی غیر مصدقہ اطلاع ہے۔حماس کی جانب سے ان خبروں کی تردید یا تصدیق نہیں گئی اور نہ ہی اس حوالے سے اسماعیل ہنیہ کا کوئی بیان منظر عام پر آیا ہے جو اس وقت کسی نامعلوم پر مقیم ہیں۔فلسطینی میڈیا کے مطابق حازم ہنیہ کی عمر محض 22 سال تھی اور وہ کالج کے طالب علم تھے۔ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی غزہ جنگ میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے 14 افراد شہید ہوچکے ہیں۔ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 117 فلسطینی شہید ہوگئے،اسرائیلی فوج نے رفح میں گھر پر بمباری کرکے 25 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ غزہ میں شہدا ء کی مجموعی تعداد 28 ہزار 64 ہوگئی جبکہ 67 ہزار 611 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ صیہونی فوج نے العمل اسپتال میں مریضوں اور عملے کو یرغمال بنالیا جس پر عالمی ادارہ صحت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفاک فوج نے محفوظ قرار دئیے جانے والے سرحدی علاقے رفح پر زمینی حملہ کرنے کا منصوبہ بنالیا اور رفح سے لاکھوں شہریوں کو فوری انخلا کا حکم بھی دے دیا۔علاوہ ازیںفلسطین میں غزہ پر اسرائیل کی مسلط کی گئی وحشیانہ جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں شرکاء نے جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔جرمن دارالحکومت برلن میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور دوسرے شہروں کے مظاہرین کی شرکت کے ساتھ 3 بڑے مظاہرے ہوئے جس سے اسے قومی مارچ قرار دیا گیا۔مظاہروں کا بنیادی نعرہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ تھا۔مظاہرین نے اسرائیل کی حمایت اور مدد کرنے والی تنظیموں کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔پیرس میں ایک زبردست مظاہرہ پیلس ڈی لا ریپبلک سے شروع ہوا اور پیلس ڈی لا نیشن کی طرف ایک جلوس کی شکل میں گیا۔ ہالینڈ کے شہر یوٹریکٹ میں بھی درجنوں افراد نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ جاری رکھنے کے خلاف مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے فوری طور پر جنگ بندی اور غزہ کی پٹی کے مکینوں کے لیے انسانی امداد کے داخلے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔یورپ میں بھی ہزاروں افراد نے آسٹریا کے دارالحکومت، سویڈن کے شہر مالمو اور آرہس، ڈنمارک میں مظاہرے کیے۔