مزید خبریں

Jamaat e islami

رمضان المبارک کی آمد سے قبل مصنوعی مہنگائی کی تیاری

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) کراچی میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل تاجروں نے مصنوعی مہنگائی کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔اطلاعات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کراچی میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی عوام کو مصنوعی مہنگائی سے دوچار کرنے کیلئے کمر کس لی۔ہول سیلرز اور خوردہ فروشوں کی جانب سے اشیاء￿ ضرور یہ گوداموں می اسٹاک کرکے مہنگے داموں فروخت کیلئے نئے سودے کر لئے۔مقامی انتظامیہ کی جانب سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قبل از وقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں شہر میں مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ مہنگے داموں فروخت کرنے کیلئے ذخیرہ اندوز اور منافع خور ایک بار پھر متحرک ہو گئے ،رمضان میں کثر ت سے استعمال ہونیوالے کھانے پینے کی اشیاء￿ سستے داموں خرید شہر کے مختلف علاقوں میںذخیرہ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور آئندہ چند دنوں میں ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ بھی زور پکڑ جائے گا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق کراچی کی بڑی ہول سیل مارکیٹ سمیت ضلع کی بڑی ہول سیل مارکیٹوں میں بیسن ،مختلف اقسام کے مشروبات ،کھجوریں ،کھانا پکانے کا تیل،چینی، سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے بڑے آرڈر ہول سیل مارکیٹ میں کئے جا رہے ہیں اور اشیائے ضروریہ کو سستے داموں خریدنے کے لئے چیک کے علاوہ نقدرقم کی ادائیگی کے ذریعے بھی سودے کئے جا رہے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق رمضان میں کثرت سے استعمال ہونے والی اشیاء￿ کی طلب عام مہینوں کی نسبت بڑھ جاتی ہے اور اس صورتحال سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ہول سیلرز اور ریٹیلرز موجودہ قیمت پر اشیائے ضروریہ کو خرید کو اپنے گوداموں میں اسٹاک کر رہے ہیں جس کی وجہ سے رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قلت کا اندیشہ ہے جس کے بعد یہ اشیائے ضروریہ مہنگے داموں میں فروخت کے لئے پیش کی جائینگی۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ہر سال رمضان المبارک سے قبل اسٹاک مارکیٹ سے اٹھا کر گوداموں میں ذخیرہ کر لی جاتی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ نے ابھی سے ہی ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کی اور منافع کی خاطر اشیاء￿ کو ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کی تو پھر رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول میں رہ سکتی ہیں ورنہ مہنگائی کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔