مزید خبریں

سری لنکا میں ایندھن کی فروخت پر پابندی عائد

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) معاشی بدحالی کے شکار سری لنکا نے ملک میں ایندھن کے فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی ہنگامی حالات کے لیے پٹرول اور ڈیزل بچانے کے لیے لگائی گئی ہے۔ سری لنکا کو 1948ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعداس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ملک بھر میں ایندھن کے ذخائر کم ترین سطح تک پہنچ چکے ہیںاور حکام کا کہنا ہے کہ صرف ایک دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن موجود ہے۔ حکومتی ترجمان بندولا گناوردانہ کے مطابق ایندھن کی فروخت پر پابندی ہنگامی حالات کے لیے پٹرول اور ڈیزل کو بچانے کے لیے لگائی گئی ہے۔ انہوں نے ملک کے نجی شعبوں سے گزارش کی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی لائی جائے اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ ادھر ملک میں بجلی پیدا کرنے والی حکومتی کمپنی نے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیلون الیکٹرسٹی بورڈ (سی ای بی) کو ساڑھے 18کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا، جس کے باعث بھاری سبسڈی والے اور چھوٹے بجلی کے صارفین کے لیے قیمت میں تقریباً 10گنا اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ بجلی کے محکمے میں کہنا ہے کہ جو صارف ماہانہ 54.27 روپے ادا کرتا ہے، اسے اب بڑھا کر 507.65 روپے کیا جائے گا۔