مزید خبریں

صوبے کی معدنی ترقی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ، معاون خصوصی

پشاور (کامرس ڈیسک ) صوبے کے معدنی اور زیرزمین چھپے خزانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت بروئے کار لایا جائے تاکہ یہ صوبہ اور ملک معاشی ترقی کرسکے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم نے پشاور یونیورسٹی کے سمر کیمپس باڑہ گلی میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی تین روزہ ارتھ سائنسز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کیا، یاد رہے کہ سینٹر آف ایکسیلینس ان جیالوجی پشاور یونیورسٹی کے تعاون سے تین روزہ ارتھ سائنس کانفرنس کاانعقاد کیا گیا جس میں ملکی اور بین الاقوامی ماہرین،طلبا اور صنعتکاروں نے شرکت کی،کانفرنس کا موضوع صوبے میں ارتھ سائنس اور اس کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور زیرزمین ذخائر سے متعلق ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنا تھا،کانفرنس میں پیٹرولیم ، جیو سائنسز، موسمیاتی تبدیلی اور گلیشئرز، ارتھ کوئیک اینڈ سسیمالوجی، ٹیک ٹانیک اینڈ اسٹریکچر جیالوجی کے حوالے سے ماہرین نے تفصیل سے اظہار خیالات اور اپنی گراں قدار تجاویز بھی پیش کیں،معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم نے کانفرنس کے اختتام کے موقع پر اپنے خطاب میں منتظمین کو بہترین اور مفید کانفرنس منعقد کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے چھپے ہوئے خزانے کو استعمال میں لایا تاکہ صوبے میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جا سکیں کیونکہ صوبہ خیبرپختونخوا معدنی دولت سے مالامال ہے اور اب ضرورت اس امر کی اس کو جدید ٹیکنالوجی کی بدولت استعمال میں لایا جائے،صوبائی حکومت صوبے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ہر قسم کی مدد کی فراہمی کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔