مزید خبریں

ضلع بدین میں غیراعلانیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری

بدین(نمائندہ جسارت) بدین شہر سمیت ضلع بھر میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے. سخت گرمی میں روزانہ 16 سے 18 گھنٹہ کی لوڈشیڈنگ اور بار بار کے تعطل کے علاوہ شہر کے وسط میں بدین پریس کلب کے قریب واقع ٹرانسفامر کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کے ٹرانفامر گزشتہ پندرہ پندرہ روز سے خراب ہیں جس کے باعث شہر کی روزمرہ کاروبار اور گھریلو زندگی بھری طرح متاثر ہو رہی ہے. بجلی سے چلنے والے کاروبار سے وابستہ محنت کش طبقہ طویل بجلی کی بندش اور بار بار کے تعطل کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہو رہا ہے. بجلی کی طویل بندش کے باعث شہر میں واٹر سپلائی کی فراہمی کا شیڈول متاثر ہونے کے باعث شہر میں پانی کا بھران بھی شدت اختیار کر گیا ہے. بدین کے سیاسی سماجی حلقوں کاروباری طبقہ اور شہریوں نے وزیرعظم شہباز شریف اور اتحادی پیپلزپارٹی قیادت کی جانب سے ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے اعلان کو عوام کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے جب عمران حکومت میں6 سے 8 گھنٹہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ تھی تو تب احتجاجی مارچ مظاہرے اور دھرنے دیے جا رہے تھے اب ان کی زبانوں کو تالے لگ گئے ہیں انہوں نے کہا عوام کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان عوام دشمن حکمرانوں کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور ان کا گہراؤ کریں،گیارہوںجماعت تعلیمی بورڈ کے سالانہ جاری امتحان کے موقع پر بھی بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے طلبا و طالبات کو پیر کرنے اور امتحان کی تیاری میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. بچوں وفاقی حکومت اور حیسکو انتظامیہ سے امتحانات کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس سے قبل نہم دہم اور بارہویں کے امتحانات کے دوران اور امتحان کی تیاری کے موقع پر بھی طلبہ اور طالبات کو بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے باعث شدید مشکلات اور پریشانی کا سامبا کرنا پڑا تھا . شہریوں اور دیگر سیاسی سماجی افراد کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش اور خراب ٹرانسفارمر کی خرابی کی اطلاع کے لئے حیسکو آفس پر کوئیذمے دار موجود نہیں جبکہ حیسکو افسران فون پر بھی دستیاب نہیں۔شہریوں اور کاروباری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ خراب ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے 20 ہزار سے 25 ہزار روپے رشوت وصول کی جاتی ہے رشوت نہ دینے پر ٹرانسفارمر کی مرمت نہیں کی جاتی جبکہ ٹرالی موبائل ٹرانسفارمر کے لیے بھی بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے۔شہریوں اور کاروباری افراد نے آن لائن شکایت سے بھی وزیرعظم اور وفاقی وزارت بجلی کو آگاہ کیا ہے۔