مزید خبریں

بدین ،بااثر شخصیات کی مدد سے پی پی بلدیاتی الیکشن میں کامیاب

بدین(نمائندہ جسارت) بدین میں پیپلزپارٹی کی کمزور پوزیشن کو سہرا دینے کے لیے پارٹی قیادت کی جانب سے بدین کا بنایا گیا مختار قل تھرپارکر کا ارباب خود بلدیاتی الیکشن میں بدین کے تنکوں کا سہرا لینے پر مجبور ہو گیا پولنگ کے موقع پر بدین کی سیاسی شخصیات اور کارکنوں نے فعال کردار ادا کیا ۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے پولنگ کے روز تھرپارکر کے انتخابی معرکہ میں بدین ضلع سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی بااثر شخصیات پارٹی عہدیدران اور کارکنوں نے اہم اور افعال کردار ادا کیا بدین ضلع سے ملحقہ تھرپارکر کی یونین کونسل کلوئی کی پولنگ اسٹیشن کیٹی جونیجو یوسف بھوت مراد ترائی دودو جت پولنگ اسٹیشن بگڑیو اور دیگر پولنگ اسٹیشن سمیت پیپلزپارٹی کی حکومتی بااثر شخصیت اور مشیر وزیراعلیٰ سندھ ارباب لطف اللہ کے علاقہ اور حلقہ کی ٹاؤن اور یونین کونسلز کے علاوہ ضلع کونسل کی نشستوں کی پولنگ اسٹیشن ووٹنگ اور ہنگامہ آرائی اور دیگر سرگرمیوں کے موقع پر بدین ضلع سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی پارٹی عہدیدران بااثر شخصیات اور کارکنوں کے علاوہ بااثر شخصیات کے ذاتی افراد کی بڑی تعداد وہاں سرگرم اور متحرک دکھائی دی سیاسی مقامی اور صحافتی حلقوں کے مطابق تھرپارکر میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی میں بدین کی سیاسی شخصیات کی مداخلت اور مدد بھی شامل ہے۔ جبکہ سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم اور پیپلزپارٹی کے باغی رہنما کامریڈ محمد خان لونڈ نے بھی پولنگ کے موقع پر ہنگامہ آرائی تشدد اور دھاندلی کا الزام پیپلزپارٹی کے رہنما اور مشیر وزیر اعلیٰ سندھ ارباب لطف اللہ کے علاوہ بدین سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدیدراوں پر عائد کیا ہے جبکہ بدین سے تعلق رکھنے والے سیاسی سماجی حلقوں سوشل میڈیا ایکٹویٹ اور صحافیوں کے علاوہ پیپلزپارٹی کے حلقوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ تھرپارکر کی جس شخصیت کو مکمل حکومتی اختیارات اور وسائل کے ساتھ بدین کا مختار قل بنایا گیا کہ وہ پیپلزپارٹی بدین میں کمزور پوزیشن کو مضبوط بنا کر پیپلزپارٹی کے طاقت ور سیاسی حریف ڈاکٹر زوالفقار مرزا کا مقابلہ کرے وہ اپنے ضلع اور حلقہ میں پیپلزپارٹی بدین کی مدد مداخلت اور سہارا لینے پر مجبور ہو گیا. پیپلزپارٹی بدین کی شخصیات پہلے ہی پارٹی قیادت کو مشورہ اور تجویز دے چکے ہیں کی غیر مقامی شخصیت کو اختیارات اور وسائل دے کر بدین میں آزمانے کے بجائے بدین کے مقامی اراکین اسمبلی پارٹی عہدیدران اور شخصیات کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں کیونکہ بدین کے عوام پہلے بھی غیر مقامی مداخلت کو مسترد کر چکے ہیں جس کا ناکام تجربہ گزشتہ عام اور بلدیاتی الیکشن میں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی قیادت نے ڈاکٹر زوالفقار مرزا کی سیاسی مقبولیت اور طاقت کو کم کرنے کے لیے پارٹی قیادت کے قریبی اور مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی گل محمد جکھرانی غلام قادر مری میر وقار ٹالپور بشارت زرداری قبول محمد کھٹیان کو آزما چکے ہیں جس کے نتائج بھی پیپلزپارٹی کو حوصلہ افزا نہ مل سکے جبکہ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق پارٹی سربراہ آصف زرداری اس سے قبل بدین ضلع کی پارٹی شخصیات سے ملاقات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ آپ سب مل کر بھی ڈاکٹر زوالفقار مرزا کو کمزور اور ناکام نہیں بنا سکتے اس کا کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ایک مرزا کو ہی کیوں نہ دوبارہ پارٹی میں شامل کر لیا جائے اور ضلع بدین اس کے حوالے کر دیا جائے۔