مزید خبریں

توہین رسالت کے قانون پر علماء نے بڑی قربانیاں دی ہیں،متحدہ علماء محاذ

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)متحدہ علما محاذ کے رہنماں نے کہا ہے کہ وطن عزیز میں توہین رسالت قانون کے وقار کے لیے علما کرام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، قانون کا غلط استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اسلام کے نام لیوا اگر ہر کسی پر بغیر سوچے سمجھے توہین رسالت کے الزامات عائد کرنے شروع کردیں گے تو اس سے نہ صرف توہین رسالت قانون کو نقصان پہنچے گا بلکہ اسلام بیزار قوتوں کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جائے گا، گزشتہ دنوں اوریا مقبول جان کی جانب سے ایک خواب کی بنیاد پر محب رسول جنرل قمر جاوید باجوہ پر توہین رسالت کا الزام عائد کرنا عقل و فہم کے خلاف اور افسوسناک ہے، ایسی سوچ اور سوچ رکھنے والوں کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اس پر معافی مانگیں بلکہ پرائم ٹائم میں مین اسٹریم میڈیا پر آکر اس کی وضاحت پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہار علامہ علامہ عبدالخالق فریدی ، مولانا جعفر الحسن تھانوی ، مولانا شاہ فیروزالدین رحمانی ، سید سجاد شبیر رضوی، علامہ ڈاکٹر فیصل مہدی شایاری، ہندو اسکالر منوج چوہان، ممتاز سیاسی رہنما سہیل عابدی ،علامہ ضیااللہ شاہ سیالوی ، پیر طریقت کفیل شاہ بخاری ، علامہ مرتضی خان رحمانی ،مولانا گل نواز ، شاہ حسین الدین رحمانی ودیگر نے متحدہ علما محاذ کی جانب سے مولانا امین انصاری کی زیر قیادت مرکز ایم یو ایم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ قائدین اور رہنمائوں نے کہا کہ ہم سب محمد عربی ﷺ سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ ان کی حرمت کے لیے اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہیں۔ عظیم ہستی جن کی عظمت اور مرتبہ کو مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب بھی تسلیم کرتے ہیں ان کی ذات پر بھلا کیسے آنچ آنے دی جاسکتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ جب حرمت رسول ﷺ کی بات ہوئی تو سب سے پہلے ہم سڑکوں پر نکلے اور آواز بلند کی، توہین رسالت قانون بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ گزشتہ کچھ واقعات میں شدت دیکھی گئی جس نے اسلام بیزار لوگوں کو موقع فراہم کیا اور انہوں نے قانون کے خاتمہ یا ترمیم کی باتیں کرنا شروع کردیں ایسے واقعات کی روک تھام کرنے اشد ضرورت ہے۔ معروف کالم نگار سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے پاک فوج کے سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق اپنے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے توہین رسالت کا الزام عائد کیا اس پر پوری پاکستانی قوم خاص طور پر علما کرام مضطرب ہیں، ایک حساس نوعیت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے نہ صرف لا علم بلکہ اہل علم کو بھی کئی بار سوچنا چاہیے۔ اوریا مقبول جان صرف ایک خواب کی بنیاد پر سنگین الزام لگا رہے ہیں۔ ایسے جملوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ناموس رسالت کے تحفظ سے متعلق علما حق کا موقف واضح ہے۔ کسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ناموس رسالت کے الزامات عاید کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اوریا مقبول جان اگر معافی نہیں مانگتے تو علما کرام اپنا آگے کا لائحہ عمل اختیار کریں گے، جو بات آج بند کمرے میں کررہے ہیں کل وہ بات سڑکوں پر نکل کر کریں گے۔