مزید خبریں

قرض لینا ہے تو ملکی خودداری کی بات نہ کریں،وزیر خزانہ

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک سے اگر قرض لینا ہے تو ملکی خودداری کی بات نہ کریں۔ کنونشن سینٹراسلام آباد میں ٹرن اراونڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ان کے بیٹوں کے فیکٹریوں پربھی سپرٹیکس لگایاہے،ملک کو خودکفیل بننا ہے تو سرمایہ داروں کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، بلڈرز، فرنیچر کا کام کرنے والوں کونیٹ ٹیکس میں لے کر آؤں گا،ملک بھر کے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں، ہمیں ٹیکس کلیکشن کے معاملات کودرست کرناہے، سپرٹیکس اس پر لگایا ہے جس کی آمدن زیادہ ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی پاکستان کو4 بڑے نقصانات کا سامناتھا، پونے 4 برس میں 20 ہزار ارب روپے قرض لیا گیا، آج ہمیں 4 ہزار ارب روپے ڈیٹ سروسنگ کرنی پڑ رہی ہے، حالات اب بھی مشکل ہیں لیکن ہم بہتری کی طرف جا رہے ہیں، ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکل چکا ہے۔ وفاقی وزیر کے بقولسستے پیٹرول پروگرام میں60لاکھ لوگوں پیٹرول سستا فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے 7ویں اور 8ویں قسط کو ملادیا ہے،7ویں قسط 90 کروڑ ڈالر اور 8یں قسط تقریباً ایک ارب ڈالر کی ہے، پاکستان پانچویں خسارے کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا، ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑے۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر 120 ارب روپے کی سبسڈی ملک کو دیوالیہ کردیتی، قوم پر فخر ہے کہ اس نے سمجھا کہ ملک دیوالیہ پن کی نہج پر تھا اس لیے پیٹرول مہنگا کرنا پڑا، ملک کی ترقی کے لیے سرمایہ داروں کو حصہ ڈالنا ہوگا۔اس سے قبل ایک ٹوئٹ میںوزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان کو اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی دستاویز موصول ہوگئی ہے جس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دستاویز کا اجرا اس امرکا ثبوت ہے کہ فریقین پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور توسیع کے لیے تیار ہیں۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے پیٹرول مزید مہنگا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی سے پیٹرول کے نرخ مزید بڑھا دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگائی جائے گی،اوگرا کی سمری آنے کے بعد وزیرعظم شہباز شریف حتمی منظوری دیں گے لیکن میں سیلز ٹیکس لگانے کے حق میں نہیں ہوں،اسحاق ڈار کی واپسی اور وزیر خزانہ کا قلمدان دیے جانے سے متعلق سوال پر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے ان کو عہدے پر برقراررکھنا یا نہ رکھنا وزیراعظم کی صوابدید ہے ،وہ اگر کام سے مطمئن نہیں تو وزیر کو تبدیل کر سکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست میں یہ ہوتا رہتا ہے، وزیراعظم تو ان کے ساتھ اگلے کئی دنوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن مستقبل کا کسی کو پتا نہیں ہوتا جیسے اسد عمر کے ساتھ ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار حکومت کی معاشی ٹیم کا حصہ ہیں،اسٹیٹ بینک کے انٹرویوز میں بھی وہ پینل میں شامل تھے۔