مزید خبریں

وفاقی کابینہ،افغان ٹرانسپورٹرز کو 6 ماہ کا ملٹی ویزہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی کابینہ نے حج پالیسی نظرثانی2022 ، افغان ٹرانسپورٹرز کو 6 ماہ کا ملٹی پل ویزا دینے سمیت 7 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم ہائوس میںہو ا، اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال پر جائزہ لیا گیا ۔وفاقی کابینہ نے نظرثانیحج پالیسی2022،قومی ویسٹ مینجمنٹ پالیسی2022، اور ویزا پالیسی سمیت 7نکاتی ایجنڈے کے منظوری دیدی ، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 22جون کے فیصلوں کی توثیق کی بھی منظوری دی جبکہ مختلف ممالک سے متعلق ویزا پالیسی میں تبدیلی کا ایجنڈا بھی منظور کر لیا ہے ،افغانستان سے پاکستان آنیوالے ٹرانسپورٹر کیلیے 10روز تسکرہ کی شرط ختم کر تے ہوئے افغانستان سے ٹرانسپورٹرز کو چھ ماہ کا ملٹی پل ویزا دینے کی منظوری دیدی ،کابینہ کے اس فیصلے سے وسط ایشیاء ، افغانستان میں تجارت کو تقویت ملے
گی،ویزہ میں مزید توسیع بھی دی جائے گی ،اجلاس میں پاک تاجکستان تجارت کیلییکے بھی اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلا س میں کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کے 23 جون کے فیصلوں کی بھی توثیق کی منظوری دی گئی جبکہ کابینہ نے الیکٹرک پنکھوں سے متعلق توانائی کا معیار بھی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن، قمرزمان کائرہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پولیو ٹیم میں دو کانسٹیبل اور پولیو ٹیم کا ایک ورکر شہید ہونے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ،وزیر داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس واقعہ کی رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کریں، انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے ورک ویزا کیٹیگری میں سب کیٹیگری شامل کی ہے،اس کیٹیگری میں ڈرائیور، ٹرانسپورٹ اور ہیلپرز کو آن لائن ویزا سسٹم کے اندر متعارف کرانے کی تجویز کی منظوری دی گئی،مریم اورنگزیب نے کہا کہ 48 گھنٹوں کے اندر چھ ماہ کی مدت پر مبنی ملٹی پل انٹری ویزا جاری کیا جائے گا، اگر چھ ماہ کی مدت میں ایک سال تک کی توسیع کرنی ہے، تو اس کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہوگا،ویزا کیلیے درکار دستاویزات میں درخواست کنندہ کی فوٹو، پاسپورٹ، ٹرانسپورٹ کمپنی کی رجسٹریشن، ایمپلائمنٹ لیٹرز شامل ہوں گے جبکہ توسیع کی صورت میں انٹری ویزا پیج اضافی درکار ہوگا۔وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمن نے کہا کہ آج نیشنل ہزیڈس ویسٹ پالیسی کی منظوری دی گئی ہے ،یہ خطرناک فضلے کی نقل و حرکت، اس کو ٹھکانے لگانا، ان کی چھانٹی کرنا اور دوسرے ممالک سے پاکستان میں درآمد ہوناہے۔قمرزمان کائرہ نے بتایا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیر کے مقدمے میں کشمیریوں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کرنے والے بہن بھائیوں کی ہر سطح پر مدد کرتا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر سے 1989 میں بھارتی فوج نے آپریشن شروع کیے تو وہاں سے 8 ہزار خاندان منتقل ہوئے تھے جن کو مختلف کیمپوں میں رکھا گیا تھا اور حکومت پاکستان مدد فراہم کرتی رہی اور فی فرد سپورٹ فنڈ بھی فراہم کیا جا رہا ہے اور مزید اضافے کے لیے سمری بھیج دی ہے اور حکومت کشمیر سے بھی کہا گیا ہے۔