مزید خبریں

قربانی کا اصل مقصد سنت ابراہیمی کی پیروی اور غربا کی مدد ہے،نمود و نمائش نہیں

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) قربانی کا اصل مقصد سنت ابراہیمی کی پیروی اور غربا کی مدد ہے‘ نمود و نمائش نہیں‘ کسی بھی عبادت میں ریاکاری شامل ہو جائے تو وہ ضائع ہوجاتی ہے اورگناہ بھی ملتا ہے‘ نیت پوشیدہ عمل ہے، ظاہری صورت دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا‘ اللہ تعالیٰ نیک نیتی اور تقویٰ کو دیکھتا ہے۔ان خیالات کا اظہارامیر جماعت اسلامی بلوچستان، شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالحق ہاشمی، جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مفتی نعمان نعیم، اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے سینئر ریسرچ آفیسر مفتی غلام ماجد، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، پاکستان کے معروف نوجوان عالم دین اور اسلامی اسکالر مفتی محمد زبیر ، پاکستان کے مقبول ترین موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر، استاد اورکئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر محمد عارف صدیقی اور علما
یونیورسٹی کے شعبہ میڈیا اینڈ ڈیزائن فیکلٹی کی سربراہ، انجمن ترقیِ اردو پاکستان کے علمی و ادبی جریدوں قومی زبان اور تحقیقی پرچے اردوکی نائب مدیرہ اور مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’قربانی کا اصل مقصد سنت ابراہیمی ہے یا نمود و نمائش اور مہنگے جانوروں کی خریداری ہے؟‘‘ مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ قربانی کا اصل مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل درآمد ہی ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس سنت پر عمل کیا تھا وہ ایک ایسی سنت ہے کہ جس کے اندر ایک بہت بڑی قربانی کا تصور پایا جاتا ہے‘ انسان اپنی قیمتی ترین متاعِ اللہ کے حکم سے بغیر کسی چوں چراں کے اس کے راستے میں قربان کر دے‘ یہ اصل بنیادی درس ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی سوال و جواب کے اپنی انتہائی قیمتی متاع اللہ کے راستے میں حاضر کردی تھی‘ اللہ ربّ العزت نے اس درس اور سبق کی یاددہانی کے لیے اور اس کی تذکیر کے لیے تاقیامت امت کے اوپر یہ عاید کر دیا ہے‘ اور اس کی ترغیب دلائی اور اس کی تاکید فرمائی کہ اس درس کو سال میں ایک مرتبہ جب موقع آئے تو اس کو لازماً دہرایا جائے‘ ویسے قرآن میں اللہ رب العزت نے واضح طور پر خود ہی فرما دیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ’’ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا یہ بات الگ ہے اس قربانی کی وجہ سے بہت سارے غربا، مساکین اورضرورت مندوں کو تازہ گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جو عموماً ان کو مل جانا ممکن نہیں ہوتا ہے‘ اس نیکی پر عمل کرنے کے نتیجے میں کچھ اور نیکیاں جنم لیتی ہیں ان میں سخاوت ،پڑوسیوں کے حقوق، غریبوں اور مساکین کا خیال رکھنا ہے‘ قربانی کے لیے اللہ تعالیٰ نیک نیتی، پاکیزہ جذبے اور تقویٰ کو دیکھتا ہے‘ ایک متوسط درجے کا جانور ہی خریدا گیا ہو مگر اصل جذبہ کیا ہے وہ خریدتے ہوئے انسان اپنی طبیعت کے اوپر بوجھ محسوس کر رہا ہے‘ بخل اس کا راستہ روکے ہوئے ہے یا اللہ کے راستے میں قربانی کا جو ایک شوق، ولولہ اور جذبہ ہے وہ زندہ و توانا ہے تو ان دونوں کی تمیز ہی اللہ رب العزت کو بنیادی طور پر مطلوب ہے۔مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ قربانی میں نمود و نمائش کے لیے مہنگا جانور خریدنے سے گریز ضروری ہے‘ قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالی کی رضامندی کا حصول اور جذبہ ایثار ہے‘ اچھے اور عمدہ جانور کی قربانی بہتر اور باعث ثواب ہے مگر تفاخر اور نمود ونمائش کے لیے مہنگا جانور خریدنا اجر و ثواب سے محرومی کا باعث ہونے کے ساتھ کمزور اور غریب لوگوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے جس سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عید الاضحی کے قریب آتے ہی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگ اس کے ذریعے اپنی بڑائی دکھانے اور ریاکاری کی کوشش کر رہے ہوں‘بعض مخصوص تاجر اپنے قیمتی بکروں اور مینڈھوں کی نمائش شروع کر دیتے ہیں اور لوگ خریداری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے خریدار صرف قربانی کے لیے بکرا نہیں خرید رہا بلکہ قربانی کے ساتھ انہیں نمائش بھی مقصود ہے‘ ریاکاری جس طرح دیگر عبادات کو برباد کرتی ہے اسی طرح قربانی بھی ایک عبادت ہے اس میں بھی اسلام ریاکاری اور نمودو نمائش کی اجازت نہیں دیتا ہے۔مفتی غلام ماجد نے کہا کہ قربانی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع اور سنت ابراہیمی پر عمل کے طور پر ایک عبادت مقرر کی گئی ہے، جس کے مکلف صاحب استطاعت مسلمان ہیں، اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے‘ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بندے کا اپنی استطاعت کے مطابق اچھے سے اچھا جانور قربان کرنا ہے، بشرطیکہ اس میں اخلاص اور رضائے الٰہی پیش نظر ہو، جو بہت اعلیٰ عبادت ہے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے‘ نام ونمود کے لیے قربانی کرنا شریعت کی نظر میں ایک مذموم عمل ہے لیکن کیا قربانی نام و نمود کے پیش نظر ہے یا رضائے الٰہی؟! یہ ایک پوشیدہ اور دل کا عمل ہے،ظاہری صورت دیکھ کر کوئی اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہے لہٰذا کسی مسلمان کی طرف سے اگر مہنگا جانور خریدا جا رہا ہے تو اس کو بلا تحقیق نام نمود کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ واللہ اعلم مفتی محمد زبیر نے کہا کہ قربانی کا اصل مقصود صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے ‘ عہد رسالت میں بھی قربانی کے موقع پر خاص طور پر قربانی کے فریضے میں نام و نمود اور نمائش سے بچنے کا بڑا اہتمام کیا جاتا تھا جیسا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔کسی بھی عبادت میں اگر نام و نمود اور ریاکاری شامل ہو جائے تو نہ صرف وہ عبادت ضائع ہوجاتی ہے بلکہ الٹا وبال اور گناہ لازم آتا ہے ۔ڈاکٹر عارف صدیقی نے کہا کہ قربانی کا اصل مقصد تو سنت ابراہیمی کی پیروی اور اس عظیم عمل کے ذریعے غرباً و مساکین کے کام آنا ہے‘ بلاشبہ کچھ لوگ اسی نیت سے یہ عظیم کام کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو لوگ قربانی کرتے ہیں ان میں سے اکثر کو اس عظیم عمل کے آغاز، وجوہات اور اثرات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا‘ کچھ اسے معاشرتی رسم سمجھ کر کرتے ہیں‘ کچھ نام و نمود اور شہرت کے لیے کرتے ہیں اور اس کے لیے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ قرض تک لینے سے گریز نہیں کرتے ہیں‘ اس کے بالکل برعکس ایسے نام نہاد دانشور بھی موجود ہیں جو ہمیشہ اس موقع پر تجاویز پیش کرتے ہیں کہ قربانی کے عمل کو روک کر غریبوں کی کسی اور طرح مدد کی جائے۔ انہیں اسی موقع پر غریب بچیوں کی شادی ، تعلیم اور روزگار کے معاملات یاد آتے ہیں۔ جبکہ نیو ائر، بسنت، ویلنٹائن، کرسمس پر ان کے یہ جذبات سردخانہ میں پڑے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے کہا کہ قربانی کے اصل مقصد کی بات کریں تو ظاہر ہے کہ وہ نمود و نمائش تو ہرگز نہیں ہے بلکہ قرب الٰہی ہے جس چیز کو اللہ نے اپنی رضا اور خوشنودی میں رکھ دیا ہے اسے ہم نمود و نمائش اور دکھاوے میں تلاش کر رہے ہیں‘ یہ ایک دینی عمل ہے جس کا حکم قرآن پاک میں دیا گیا ہے کہ ہر صاحب استطاعت مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کرے‘ہر سال ذوالحج کی 10 تاریخ کو ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہیں جب انہوں نے حکم خداوندی اور آداب فرزندی کا حق ادا کر تے ہوئے خود کو قربانی کے لیے پیش کر دیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو ان کی قربانی مطلوب نہیں تھی ، اسی لیے وہاں اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک دنبہ آگیا جس کی قربانی کردی گئی‘ قربانی جیسے دینی حکم میں خرافات کو شامل کردیا گیا‘ قربانی کے جانوروں کی نمائش، فیشن پریڈ، خواتین کا جانوروں کے ساتھ ڈانس نہ صرف یہ لغویات ہیں بلکہ متمول افراد نے اب اس عمل کو ” اسٹیٹس سمبل” کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا‘ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تماشے میں حصہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ایک مذہبی فریضے اور سنت کی ادائیگی کو بجائے ادب و احترام اور انکساری سے انجام دینے کے نمود و نمائش کے شوقین افراد نے غیر مہذب اقدار کے فروغ اور اپنی دولت کی تشہیر کا ذریعہ بنادیا ہے۔
جسارت سے گفتگو