مزید خبریں

کراچی: طویل لوڈ شیڈنگ پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ، احتجاج ، پولیس سے جھڑپیں، خاتون جاں بحق

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، شدید گرمی میں 16 گھنٹے کی بدترین لوڈ شیڈنگ پراحتجاج مظاہرے شروع ہوگئے، شہر میں 18 مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا، ماڑی پور روڈ میدان جنگ بن گیا، پولیس اور مظاہرین میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، لاٹھی چارج اور شیلنگ بھی کی گئی، ڈنڈا لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جبکہ مشتعل افراد کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گیا، لائنز ایریا، کورنگی ، لانڈھی ، غریب آباد ، لیاقت آباد، پی آئی بی،تین ہٹی، گارڈن، ایم ٹی خان روڈ، پاور ہاؤس، سخی حسن، اوردیگر علاقوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور آگ لگا کر روڈ بلاک کردیے،صدر میں داؤد پوتہ روڈ پرتاجر اور دکاندار بجلی کی عدم فراہمی پر سراپا احتجاج بن گئے۔بجلی کی عدم فراہمی پرپانی کی بھی قلت ہوگئی،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک سسٹم درست کرے، عوام کتنی تکلیف برداشت کرینگے،انہوں نے صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ کراچی میں بجلی کے بڑھتے بحران پر قابو پانے کے لیے کے الیکٹرک سے بات کریں۔ تفصیلات کے مطابق لیاری اور مچھر کالونی میں بجلی کی طویل دورانیے کی غیر اعلانیہ بندش کے خلاف علاقہ مکینوں کا احتجاج منگل کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ماڑی پور روڈ پر بجلی کی طویل بندش کے خلاف کیا جانے والا احتجاج24گھنٹے گزرنے کے بعد ختم کردیا گیا ۔ ماڑی پور روڈ پر احتجاج کے دوران ایک خاتون ہلاک ہوگئیں۔ ریسیکو ذرائع کے مطابق لیاری میں ہنگورآباد کی رہائشی 60 سالہ میرا بی بی کا انتقال مبینہ طور پر ماڑی پور میں احتجاج کے دوران ہوا۔ ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ایس ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ خاتون کی عمر 70 سال تھی اوران کی موت طبعی طور پر ہوئی۔ ماڑی پور میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مظاہرین پرلاٹھی چارج کیا اورآنسو گیس کی شیلنگ کی، متعدد شہریوں کو گرفتاربھی کرلیا گیا۔ شہریوں کے احتجاج کے باعث ماڑی پور روڈ، حب ریور روڈ، آر سی ڈی ہائی وے، ایم ٹی خان، مائی کلاچی روڈ اور بوٹ بیسن تک ٹریلر، ٹرک ٹینکر سمیت گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ کراچی بندرگاہ سے بھی پیر کی شام سے سامان کی ترسیل نہیں ہوسکی تھی، ملک کے مختلف علاقوں سے شپمنٹ کے لیے بندرگاہ بھیجا گیا سامان بھی تاخیر کا شکار ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے۔انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے مظاہرین نے کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر نے کے اعلان کے بعد ماڑی پور روڈ کے دونوں ٹریک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔شہر میں بجلی کے بدترین بحران کے باعث لیاقت آباد، جہانگیر آباد ، ناظم آباد ، پی آئی بی کالونی، اورنگی ٹاؤن ، کورنگی اللہ والا ٹاؤن، کورنگی الیاس گوٹھ، لانڈھی فیوچر موڑ سمیت دیگر علاقوں کے مشتعل رہائشیوں نے سڑکیں بلاک کیں، پتھراؤ کیا اور کے الیکٹرک ، حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر ایک گھنٹے بعد 2 گھنٹے کے لیے بجلی بند کر دی جاتی ہے، متعدد علاقوں میں 4 سے 6 گھنٹے مسلسل بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے جبکہ بلدیہ اتحاد ٹاؤن، قائم خانی کالونی ، گلشن غازی اور اطراف کے علاقے ، لائنز ایریا اے بی سینیا لائن اور گلشن ظہور ، نارتھ ناظم آباد نصرت بھٹو کالونی ، کورنگی الیاس گوٹھ ، گلشن عریشہ ، جوہر کمپلیکس ، رضوان سوسائٹی ، ملیر ، اسکیم 33 گارڈن ، برنس روڈ اور سٹی ریلوے کالونی میں رات 11 بجے سے ایک بجے تک اور صبح 4 بجے سے 7 بجے تک اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جبکہ غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کا کوئی ٹائم ہی نہیں ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کے ای وفاقی حکومت سے سبسڈائز تیل اور گیس لینے کے لیے کراچی کے شہریوں کومشتعل کرکے امن وامان کا مسئلہ پید اکررہی ہے۔دوسری جانب کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ایندھن کی کمی کے باعث ہو رہا ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ادارے کو گیس اور تیل کی خریداری میں دشواری کا سامنا ہے۔علاوہ ازیںوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاہے کہ کے الیکٹرک کی طویل لوڈشیڈنگ شہر میں امن و امان کی صورتحال پیدا کررہی ہے۔انہوں نے صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں بجلی کے بڑھتے بحران پر قابو پانے کے لیے کے الیکٹرک سے بات کریں۔ مراد علی شاہ نے کہاکہ کے الیکٹرک اپنے سسٹم کو درست کرے، عوام کتنی تکلیف برداشت کریں گے، کراچی میں بجلی کے بحران کو فوری ٹھیک کیا جائے۔ امتیاز شیخ نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے کے الیکٹرک کے بقایاجات کی ادایگی کی اپیل کی ہے اور کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس فرنس آئل خریدنے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، وفاقی حکومت نیپرا سے منظور شدہ سبسڈیز کی رقم کی فوری ادایگی کرے۔ صوبائی وزیر توانائی نے کے الیکٹرک کے سی ای او سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے،لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔

 

.