مزید خبریں

کے الیکٹرک نے شدید لوڈ شیڈنگ کر کے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ، حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک نے شدید لوڈشیڈنگ کر کے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، سخت گرمی اور حبس میں کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے ، لیاری سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں عوام کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کرنے اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں لیکن حکومت اور کے الیکٹرک عوام کو ریلیف دینے پر تیار نہیں ۔ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ، نواز لیگ سمیت تمام حکومتی جماعتیں کے الیکٹرک کو سپورٹ کرتی ہیں۔ صارفین اگر بل ادا نہ کریں تو بجلی کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے لیکن کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس کمپنی کی اربوں روپے کی نادہندہ ہے اس کا لائسنس کیوں منسوخ نہیں کیا جاتا۔ وفاقی و صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر میں عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام تک موجود نہیں ہے ۔صوبائی حکومت نے 14سال میں 240 بسوں کا اعلان کر کے صرف ایک روٹ پر چند بسیں چلا کر کراچی کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا ہے،پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت گلیوں اور سڑکوں کی کھدائی اس وقت کراتی ہے جب شہر میں انتخابات ہوتے ہیں۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے تحت مولوی عثمان پارک لیاری میں ’’خواتین بلدیاتی کنونشن ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کنونشن سے امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ، حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی قائم مقام ناظمہ فرح عمران،یوسی 8کے نامزد چیئرمین جواد شعیب ،نامزد وائس چیئرمین سمیر بلو چ و دیگرنے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں خواتین کی بڑی تعداد نے شر کت کی ۔اس موقع پر چھوٹے بچوں اور بچیوں کے لیے شعبہ اطفال کے زیر اہتمام کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔کنونشن میں خواتین چارٹر بھی پیش کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کراچی میںخواتین کے لیے محفوظ، سستی اور باعزت ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم اور روزگارکے مواقع پیدا کیے جائیں ،کراچی کے نوجوانوں کوسرکاری ملازمتیں دی جائیں،ورکنگ ویمن کے لیے تحفظ اور برابری کی سطح پر تنخواہ کا نظام وضع کیا جائے ، بچوں اور بچیوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے ادارے قائم کیے جائیں ، کراچی کی مردم شماری درست کی جائے اور اسی بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلی میں کراچی کو نمائندگی اور وسائل فراہم کیے جائیں اورخواتین یونیورسٹی قائم کی جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کامیاب اور زبردست خواتین کنونشن پر خواتین ذمے داران و کارکنان مبارکباد کی مستحق ہیں ۔ حالات بدل رہے ہیں اور عوام میں شعور بیدار ہوا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت سے امید ہے کہ 24 جولائی کو جماعت اسلامی ہی کامیاب ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں خواتین ٹھیکیداری نظام کے تحت فیکٹریوں میں کام کر نے پر مجبور ہیں ۔ جماعت اسلامی خواتین اوربچیوں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کرے گی اورخواتین کے لیے بھی اسپورٹس کلب بنائے گی۔ لیاری فٹبال کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ لیاری کے نوجوان انٹرنیشنل فٹبال ٹیم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی شہر میں ڈپارٹمینٹل اسپورٹس شروع کرائے گی۔ انہوں نے کہاکہ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے شہر میں آخری بار پانی کا کے تھری منصوبہ مکمل کیا تھا اس کے بعد 17 سال گزرگئے آج تک ایک گیلن پانی کا اضافہ نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی کا مئیر وفاق اور صوبے سے کراچی کا حق لے کرکے فور منصوبہ مکمل کرائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے عوام کے ٹیکس کراچی پر خرچ نہیں کیے جاتے ہیں۔شہری مہنگے داموں تعلیم دلانے پر مجبور ہیں، رواں سال تعلیم کا بجٹ صرف کرپشن اور جعلی بھرتیوں کے لیے بڑھایا گیا۔ جماعت اسلامی کا مئیر آئے گا تو بلدیہ کے تحت ماڈل اسکول بنائے جائیں گے۔ جماعت اسلامی کراچی کے نوجوانوں کو انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کی تعلیم دے گی۔ جماعت اسلامی نے الخدمت کے تحت ’’بنو قابل‘‘ پروجیکٹ شروع کر دیا ہے جس میں میٹرک اور انٹر پاس نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں 3 سے 6 ماہ کے کورسز کرائے جائیں گے ۔ جماعت اسلامی کی حق دو کراچی تحریک آگے بڑھے گی۔ کراچی کے عوام کو ضرور حق دلائیں گے۔ سید عبد الرشید نے کہا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف آج دوسرا روز ہے کہ لیاری میں مسلسل احتجاج جاری ہے۔ لیاری کے عوام پانی و بجلی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔جماعت اسلامی کراچی کو پھر سے روشن اور چمکتا دمکتا بنانے کے لیے پورے شہر میں جدوجہد کررہی ہے ۔بلدیاتی انتخابات میں دیانت دار اور باصلاحیت نمائندے کھڑے کیے ہیں۔ جماعت اسلامی کے انتخابی نشان پر ووٹ ڈالنے سے عوام مضبوط ہوں گے اور مسائل حل ہوں گے ۔ پریشانیوں اور مشکلات سے نجات دلانے کے لیے 24 جولائی کو ترازو کے نشان پر ووٹ ڈالیں۔فرح عمران نے کہا کہ کنونشن میں لیاری کی خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی نوید ہے کہ جماعت اسلامی ہی کامیاب ہوگی۔جماعت اسلامی کا انتخابی نشان ترازو عدل کی علامت ہے ۔ 21ویں صدی کے دور میں آج بھی خواتین اپنے بنیادی حقوق مانگ رہی ہیں۔ سودی بینکاری اور اس کے ہم خیال بینکوں کی سودی نظام کی حمایت کرنے والے اللہ سے جنگ کررہے ہیں۔