مزید خبریں

موسمیاتی تبدیلیوں سے انسانیت معدوم ہوسکتی ہے ، اقوام متحدہ

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ دنیا کو سمندری ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے جس سے انسانیت معدوم ہوسکتی ہے۔ عالمی ادارے کے سربراہ انتونیو گوتریس نے نیویارک سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے سمندری خوراک کے تسلسل میں خلل ڈالا اور وسیع علاقوں کو جانداروں کے ممنوع بنادیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے کہا کہ ہم ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کی آلودگی سمندروں میں ڈال دیتے ہیں،جس سے سمندری جانور بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں اور انہی جانوروں کا گوشت استعمال کرکے انسان بھی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ دوسری جانب حیاتیاتی تنوع پر اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی تیاری کے لیے عبوری مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔ تحفظ ماحول کے کارکنوں نے اس صورتحال کوتباہ کن جمود قرار دیا ہے۔ 196 ممالک کے مندوبین تقریباً ایک ہفتے سے نیروبی میں تحفظ ماحول کے معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے تھے۔ یہ مسودہ دسمبر میں کینیڈا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس سی او پی 15کے موقع پر حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تب تک کوئی ایسا مسودہ تیار کیا جا سکے گا، جس پر تمام ممالک متفق ہوں۔ادھر اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جن ممالک نے بھنگ کو قانونی حیثیت دی ہے، وہاں اس کے باقاعدہ استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔