مزید خبریں

کاغذ پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے سے پرنٹنگ انڈسٹری تباہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان پیپر مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین، کراچی چیمبر کی امپورٹ، اینٹی اسمگلنگ سب کمیٹی کے سابق چیئرمین عابد نثار نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے کاغذ کی صنعت کو تباہی سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کاغذ کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی طبع شدہ کتابیں، پرنٹیڈ میٹریل کی ڈیوٹی فری درآمد معطل کرتے ہوئے ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی پرنٹنگ انڈسٹری کو تباہی سے بچایا جاسکے بصورت دیگر لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔عابد نثار نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل میں نشاندہی کی کہ درآمدی کاغذ پر ٹیکسوں کی بھرمار، روپے کی قدر میں نمایاں کمی، ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے اور مقامی پیپر ملز کی من مانیوں ، منافع خوری کے باعث پورے ملک میں کاغذ کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے اورکاغذ کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قدر میں حد سے زیادہ اضافے کی وجہ سے کاغذ کے درآمدی سودے گھاٹے کا سودا بن گئے ہیں کیونکہ درآمدی خام مال کی ڈیلیوری عموماً3 ماہ میں ہوتی ہے لہٰذا پاکستان میں روپے کی بے قدری اور ڈالر کی قدر مسلسل بڑھنے سے کاغذ کی درآمدی لاگت دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور درآمدکنندگان پریشان ہیں کہ وہ یہ مہنگا مال کس کو فروخت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ درآمدکنندگان پرنٹنگ انڈسٹری کی پیداواری طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم مقامی پیپر ملوں کی منافع خوری اور کاغذ کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافے کے نتیجے میں درسی کتب کی چھپائی ممکن نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے بچوں کو درسی کتابیں دستیاب نہیں ہوسکیں گی اور اگر دستیاب بھی ہوئیں تو وہ مہنگی ہونے کی وجہ سے عوام کی قوت خرید سے باہر ہوں گی۔عابد نثار نے انکشاف کہ بیرون ملک سے درآ مد کی گئی کتابیں ڈیوٹی فری ہیں جو ملائیشیا، سنگاپور، انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک سے چھپوا کر درآمد کی جارہی ہیں جبکہ ہر قسم کا پرنٹیڈ میٹریل بھی ڈیوٹی فری ہے جس کی وجہ سے پرنٹنگ انڈسٹری تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی ہے۔پرنٹنگ انڈسٹری بڑے پیمانے پر لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہ المیہ ہے کہ بیرون ملک سے طبع شدہ کتابیں اور پرنٹیڈ میٹریل کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی نہیں اس کے برعکس پاکستان میں کتابوں کی چھپائی اور پرنٹنگ میٹریل کا خام مال کاغذ درآمد کرنے پر تقریباً 70 فیصد ڈیوٹی عائد ہے جو انتہائی غیر منصفانہ ہے اور یہ ایک بہت بڑی اناملی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی درآمدی کاغذ پر امپورٹ ڈیوٹی 20 فیصد،سیلز ٹیکس 17 فیصد، کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد کے علاوہ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی 29 فیصداور ایڈیشنل ڈیوٹی6 فیصد ہے جبکہ وفاقی بجٹ2022-23 میں بھی ڈیوٹیز میں مزید اضافہ کیا گیاہے۔