مزید خبریں

حیدرآباد ،بارش کی پیشگوئی ،واسا کے پمپنگ اسٹیشن غیر فعال

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) محکمہ موسمیات کی جانب سے حیدرآباد سمیت ملک بھر میں بارشوں کی پیشنگوئی کے باوجود حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ،بلدیہ اعلی حیدرآباد اور واسا انتظامیہ کی جانب سے بارشوں کے نقصانات سے بچائو کے لیے ابتک کوئی موثر اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ہیں شہر کے تمام برساتی اور سیوریج نالے برسوں سے صفائی (ڈی سلٹنگ) نہ ہونے کے سبب کچرے سے اَٹے ہوئے ہیں جبکہ بلدیہ کے صفائی ستھرائی کے عملے سمیت واسا کے پمپنگ اسٹیشنز بھی غیر فعال ہیں اوراگر اس صورتحال میں شدید موسلا دھار بارشیں ہو گئیں تونشیبی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے،حیدرآباد،قاسم آباد اور لطیف آباد میںبرساتی نالوں اور سیوریج کی نکاسی کا نظام تباہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے حیدرآباد اور لطیف آباد کے کئی علاقے بارش سے قبل ہی بارش کا منظر پیش کررہے ہیں جبکہ واسا کے زمرے میں آنے والے نالوں اور سیوریج کی لائنوں کی صفائی کئی برسوں سے نہیں ہو سکی ہے، حیدرآباد اور لطیف آباد سمیت پسماندہ علاقوں میں کئی کئی ماہ سے صفائی وستھرائی کا کام مکمل طور بند ہیں جس کی وجہ سے گلی محلے کچرے کے ڈھیروں اور گندے پانی کے تالابوں میں تبدیل ہو چکے ہیں،بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب صفائی ستھرائی کے تمام امور ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے حالیہ بارشوں میں لطیف آباد اور سٹی سمیت قاسم آباد کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے جبکہ پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ، بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد اور محکمہ واسا کی انتظامیہ نیند سے بیدار نہیں ہوئی ہے اور ابتک صفائی ستھرائی کے عملے سمیت واسا کے زیر انتظام چلنے والے نکاسی آب کے پمپنگ اسٹیشنز بھی غیر فعال نظر آرہے ہیں، لطیف آباد یونٹ نمبر 12 سے گزرنے والا برساتی نالہ، حالی روڈ، کلاتھ مارکیٹ اور تلسی داس سے گذرنے والے برساتی اور سیوریج کے مین نالے کئی سالوں سے صفائی (ڈی سلٹنگ) نہ ہونے کے سبب کچرے سے اَٹے ہوئے نظرآرہے ہیں اور ان نالوں میں جمع کچرے کے باعث با آسانی آمد ورفت کی جاسکتی ہے جبکہ ان نالوں میںبچے بھی بلا کسی خوف و خطر کھیلتے نظر آتے ہیںلیکن ضلعی انتظامیہ، بلدیہ اور واسا انتظامیہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے، اگر اس صورت حال میں حیدرآباد شہر اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں میں 80ملی میٹر بھی موسلا دھار بارش ہوگئی تو برساتی نالوں کے قریب آبادیوں اور نشیبی علاقوںکے زیر آب آنے کا خدشہ ہے لیکن متعلقہ بلدیاتی ادارے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں یا پھر ماضی کی طرح شہر کو ڈبو کر حکومتوں سے فنڈز ملنے کے انتظار میں ہیں۔