مزید خبریں

سودی معیشت کیخلاف تحریک چلائی جائے گی،مجلس احرار اسلام

لاہور (نمائندہ جسارت) سودی و یہودی معیشت کے خلاف زبردست تحریک چلائی جائے گی۔ مجلس احرار اسلام اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام کے نفاذ کی جد جہد آخری دم تک کرتی رہے گی۔جو بینک سودی و یہودی معیشت کو رائج رکھنا چاہتے ہیں ان بینکوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہاردفتر احرار نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں منعقدہ لاہور کے اراکین کے ماہانہ اجلاس میں مختلف رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت لاہور کے صدر حاجی محمد ایوب بٹ نے کی ۔اجلاس کا آغاز تعزیتی کلمات سے کیا گیا جس میں جامعہ فتحیہ کے صدر مدرس، شیخ الحدیث، حضرت مولانا پروفیسر عبدالرشید خلیق کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور تمام رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔اس موقع پر مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمد اویس نے کہاکہ سود ایک ایسی لعنت ہے جس سے ہماری معیشت دن بدن گرتی جا رہی ہے اب وقت آ چکا ہے کہ اس لعنت سے جان چھڑا لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آچکا ہے اب ہمیں وفاقی شرعی عدالت کے ساتھ مل کر اپنی معیشت کو سودی و یہودی معیشت سے نجات دلانی ہو گی۔ قاری محمد قاسم بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہماری متاع ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے امتناع قادیانیت ایکٹ پر مؤثر و مکمل عمل درآمد نہیں کروا رہے جس کی وجہ سے قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنی آئینی و قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیں اور اپنے غیر مسلم اقلیتی دائرے میں رہیں ۔حاجی محمد ایوب بٹ نے اپنے صدارتی بیان میں اراکین اور کارکنان کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے شعبہ تبلیغ میں ایک شعبہ نیو مسلمین کا بھی ہے اپنی قربانی کے جانوروں میں اپنے نیو مسلم بھائیوں کا بھی حصہ ضرور رکھیں۔ انہوں نے سودی و یہودی معیشت کو ختم کرنے کے حوالے سے کہا کہ جن بینکوں نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے ان کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے اور لاہور کے تمام یونٹس سے عہدیداران اپنے اپنے حلقوں میں اس کی تشہیری مہم کا حصہ بنیں ۔ اجلاس میں حاجی محمد لطیف، قاری عبدالعزیز یوسف، رانا حبیب اللہ، قاری احسان اللہ فاروقی، قاری محمد بن لطیف، قاری محمد ابوبکر ، قاری محمد منیب قاسم، قاری عبداللہ اور دیگرکثیر رعداد میں لاہور کے اراکین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں قرار داد پیش کی گئی کہ سودی معیشت کے خلاف تحریک انسداد سوکو مزید منظم کیا جائے۔