مزید خبریں

سندھ اسمبلی:17کھرب 13ارب کابجٹ منظور

کراچی(نمائندہ جسارت)سندھ اسمبلی کے اجلاس میںپیر اورمنگل کی درمیانی شب مالی سال 2022-23کا17کھرب 13ارب روپے سے زائد کابجٹ متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ جبکہ ایوان نے 93ارب 56کروڑروپے کا ضمنی بجٹ بھی منظورکرلیا۔بجٹ منظوری
کے وقت ایوان میں اپوزیشن میں سے سوائے ایم کیوایم کے اراکین کا کوئی بھی رکن اپوزیشن بینچوں پر نہیں تھا۔ بجٹ میں کٹوتی کے لیے جمع کرائی گئی تحریک انصاف اور جی ڈی اے کی تمام تحاریک ان کی ایوان میں عدم موجودگی پر مسترد کردی گئیں۔ اجلاس 11 بجکر 55 منٹ پر 10 منٹ کے لیے اجلاس ملتوی کیا گیا اور دوبارہ اجلاس رات 12 بجکر 8 منٹ پر شروع ہوا اور صرف 15 منٹ کی کارروائی میں ایوان نے بجٹ کی منظوری دے دی۔بعدازاںسندھ سمبلی کااجلاس یکم جولائی کو ڈھائی بجے دوپہرتک ملتوی کردیا گیا۔ جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے تحریک انصاف کی مقبولیت بلدیاتی انتخاب میں نظر آگئی ہے کپتان کی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجا۔ وفاق میں کوئی بھی حکومت ہو ہم پر احسان نہیں کرتے سندھ کو اسکا آئینی حق دیتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کی خواہش تھی نیب سب کو بند کردے یہ شخص مزید برسر اقتدار میںرہتا تو ملک و قوم کا نقصان ہوتا۔ وہ سندھ اسمبلی میں قائد ایوان کی حیثیت سے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت بخشی ہے میں نے10 بار بجٹ پیش کیا ہے نویں بار بجٹ تقریر کررہا ہوں ۔ہم نے الیکشن بجٹ بنایاہے اگلی بارپورے پاکستان میں ہماری حکومت آئے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا مجھ پر پتہ نہیں کتنے کیس کرائے نوری آباد سے سستی بجلی کراچی کو ملتی ہے کس طریقے سے یہ چاہتے تھے کہ اس کو نکالو۔اس کے ہوتے ہوئے ہم کام نہیں کرسکتا۔اس سال ہماری ڈیولپمنٹ بڑھے گئی۔ہم اس سال 460 ارب کی ڈیولپمنٹ کریں گے۔ہم نے کام کیا تو ہماری سیٹیں پہلے زیادہ ہوئیں لوگوں نے پیپلزپارٹی پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ہم نے نئے ٹیکس نہیں لگائے اللہ کرے میرا شہر سہیون شریف کراچی جتنا ٹیکس دے سکے۔