مزید خبریں

مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایاز صادق کو چیلنج دیدیا

اسلام آباد(صباح نیوز)قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے وفاقی وزیر ایاز صادق کو جواب دیتے ہوئے ریفرنس دائر کرنے کا چیلنج دیدیا، کہتے ہیں نظریارتی کارکن ہوں،بکنے والا نہیں،،چیلنج کرتا ہوں ابھی میرے خلاف ریفرنس لائیں میں اس کا جواب دوں گا، کرپشن اور بیڈ گورننس کے خلاف بات کرنا میرے عوام کا مطالبہ ہے،ایسے کرنا ہے تو پہلی اور آپ کی حکومت میں کیا فرق ہے؟ قومی اسمبلی کی کارکردگی صفر ہے، عوام ہم پر ہنس رہے ہیں، پاکستان پر قرضوں کا حجم سالانہ بجٹ سے زاید ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز قومی اسمبلی اجلاس میں کیا گیا۔ مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا وفاقی وزیر ایاز صادق نے مجھے گزشتہ جمعہ کو ایوان کے اندر دھمکی دی،کہا گیا کہ حکومتی نشستوں پر آجائیں اور اپنے حلقے کے ترقیاتی کام کرائیں،میرے حلقے کے عوام دینی نظریہ رکھتے ہیں،کرپشن اور بیڈ گورننس کے خلاف بات کرنا میرے عوام کا مطالبہ ہے،ایسے کرنا ہے تو پہلی اور آپ کی حکومت میں کیا فرق ہے؟کہا گیا کہ میں حکومتی نشستوں پر نہ گیا تو میرے خلاف ریفرنسز لائیں گے۔مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ ایم ایم اے نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا تھا، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا پی ڈی ایم کا فیصلہ تھا، ہر رکن اپنی حدود میں رہے۔ عبد الاکبر چترالی نے واضح کیا کہ وہ ایک نظریاتی کارکن ہیں بکنے والا نہیں،میں پارٹی یا چہرے نہیں نظام کی تبدیلی کی بات کرتا ہوں، چیلنج کرتا ہوں ابھی میرے خلاف ریفرنس لائیں میں اس کا جواب دوں گا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا کہ پوسٹ افس کو ایک کروڑ روپے کس قانون میں دیے جا رہے ہیں، پاکستان پوسٹ مکمل ناکام ادارہ، کوریئر کمپنیاں اربوں روپے کما رہی ہیں،قومی اسمبلی کے لیے 2ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،قومی اسمبلی کی کارکردگی صفر ہے، عوام ہم پر ہنس رہے ہیں، پاکستان پر قرضوں کا حجم سالانہ بجٹ سے زاید ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے جانے چاہئیں، الیکشن کمیشن متناسب نمائندگی کی بنیاد پر عام انتخابات کرائے،الیکشن کمیشن کو ضروری فنڈز دینے کی حمایت کرتا ہوں۔