مزید خبریں

خواتین کے لیے پہلا وائس فارویمن ، ای جرنل لایا جائے ، مقررین

کراچی (اسٹاف ر پورٹر)ورکنگ وومن کراچی کے زیر اہتمام نوکری پیشہ خواتین کے قوانین پر عمل کے چیلنجزپرڈسکشن فورم مقامی ہوٹل میں منعقد کیاگیا۔فورم میں مختلف شعبہ حیات سے متعلقہ خواتین نے شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ورکنگ ویمن ویلفیئر ٹرسٹ کی صدر طلعت فخر نے مہمانان کی آمد پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے لیے پہلا وائس فار ویمن، ای جرنل لایاجائے گا،جس میں خواتین ایشوز اور ان کے حل سے متعلق آگہی دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ معاشرتی رویوں کی اصلاح بہت ضروری ہے، خواتین کے تحفظ کے لیے بہت ساری قانون سازی ہوئی ہے لیکن اس پر عمل درآمدآج بھی مسئلہ بنا ہواہے۔پروگرام ڈائریکٹر ورکنگ ویمن ٹرسٹ حمیرا قریشی نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے ڈسکشن فورم کے مقاصد و اہمیت بتاتے ہوئے کہاکہ اس فورم سے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔نزہت شیریں،چیئرپرسن سندھ کمیشن برائے ویمن اسٹیٹس نے کہاکہ عورتوں کو مضبوط بن کرفرائض و حقوق کو الگ رکھنا ہوگا۔قوانین سے آگہی اپنی جگہ اہم ہے مگر اخلاقی اقدار و پیمانوں کو مد نظر رکھ کر ہی اپنی زندگی کو ترتیب دینا ہوگا۔سینئر خاتون ایڈووکیٹ ڈاکٹر رعنا خان نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ہم خوش نصیب ہیں کہ قرآن کی صورت ہمیں تما م ہدایات مل چکی ہیں، پاکستانی معاشرے میں عورت کی عزت و مقام آج بھی ملکہ کی مانند ہے۔پاکستانی آئین میں خواتین سب سے زیادہ زیر بحث آئی ہیں، قوانین پر عمل درآمد حکومت کی سنجیدگی و ترجیح سے آسکے گی۔ جامعہ کراچی شعبہ ویمن اسٹڈیز کی سربراہ، ڈاکٹر اسما منظورنے کہاکہ اداروں میں قوانین آویزاں کرکے تربیتی سیشن سے آگہی و شعور بڑھانا ہوگا۔ قوانین کے بارے میںپولیس کو بھی معلومات نہیں ہوتیں۔عورت فاؤنڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ملکہ خان نے کہاکہ ملازمت پیشہ خواتین کے پاس ان کا کنٹریکٹ لیٹر ہونا لازمی ہے، قانون میں ڈے کیئر سینٹر کی بھی پابندی کی گئی ہے۔خاتون صحافی رہنما شہر بانو نے کہاکہ ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ صرف ہیراسمنٹ ہی نہیں ہر قسم کی معاشی، معاشرتی اور قانونی زیادتیاں کی جاتی ہیں۔