مزید خبریں

Jamaat e islami

کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے

تخلیق فائونڈیشن اور ورکنگ ویمن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ٹرسٹ فار ڈیموکریسی ایجوکیشن کے تعاون سے کراچی پریس کلب میں 15 جون کو پروگرام منعقد ہوا۔ تقریب کا آغاز حانیہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی CSR اسٹینڈنگ کمیٹی کی کنوینر شمسہ جبین نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین کو کام کرنے کے محفوظ مواقعے دیے جائیں۔ پہلے سے جو لیبر قوانین بنے ہیں ان پر عمل کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ ویمن مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں لیکن خواتین کے گھریلو کام کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ملازمت پیشہ خواتین کو تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان میں شعور بیدار ہو اور خود اعتمادی آئے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے تو اچھی صنعتی پیداوار مل سکتی ہے۔ NOWC کی رہنما چمن گل نے کہا کہ محکمہ محنت سندھ ورکنگ ویمن کو تحفظ فراہم کرے۔ اربن ریسورس سینٹر کے رہنما زاہد فاروق نے کہا کہ ورکنگ ویمن کو بھی کم از کم اجرت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو خواتین مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔ بلدیاتی الیکشن میں خواتین اچھے امیدواروں کا چنائو کروائیں۔ صحافی قاضی سراج نے کہا کہ محکمہ سندھ کے اہل کار لیبر قوانین پر عمل کروائیں لیکن محکمہ محنت مزدور مفاد میں کام کرنے کے بجائے سرمایہ داروں کے مفاد میں کام کرتا ہے۔ ٹیچر بلقیس عثمان نے کہا کہ ورکنگ ویمن کو تعلیم و تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرسکیں۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے جوائنٹ سیکرٹری امیرروان نے کہا کہ کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کہا کہ جب خواتین ظلم کے خلاف احتجاج کرتی ہیں صنعتکار ڈرانے کے لیے پولیس اور رینجرز کو بلالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو حکومت کے فلاحی اداروںمیں رجسٹر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور معاشرہ ملازمت پیشہ خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے رہنما ہمایوں وقاص نے کہا کہ ترقی کے لیے ملازمت پیشہ خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض تخلیق فائونڈیشن کے رہنما ضیا الحق نے انجام دیے۔ تقریب میں ٹرسٹ فار ڈیموکریسی ایجوکیشن کے رہنما سلمان خواجہ، ملازمت پیشہ خواتین اور دیگر نے شرکت کی۔
15 جون کو ویمن ورکرزالائنس کراچی نے کام کرنے والی خواتین کے مسائل کی نشاندہی کرنے اور ان کے حل کے لیے آواز اْٹھانے کے لیے ڈسٹرکٹ کنونشن کراچی پریس کلب میں منعقد ہوا۔ وومن ورکرز الائنس پاکستان کے 14 اضلاع کی نمائندگی کرنے والی خواتین کارکنوں کا ایک گروپ، جس میں ایک چار صوبائی اتحاد اور ایک قومی اتحاد شامل ہے الائنس خواتین کارکنوں کے حقوق کے لیے جدوجہد میں سرگرم ہے۔ الائنس کا کہنا ہے کہ لیبرقوانین میں خامیاں، قوانین کی عدم تعمیل اورقوانین میں موجود ناقابل عمل دفعات وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پربہت سے کارکن اپنے مزدورحقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ جن شعبوں پرلیبرقوانین لاگونہیں ہوتے یاجنہیں محکمہ محنت اپنی دسترس سے باہر سمجھتا ہے، انہیں لیبرقانون سازی اورانتظامی نظام میں شامل کیا جائے اورا س ضمن میں فوری کارروائی کی جائے۔ ملازمت کے لیے اجرتوں اور شرائط سے متعلق لیبرقوانین میں کام پرصنفی امتیازکودورکرنے کے لیے دفعات شامل کرنے کی ضرورت ہے۔