مزید خبریں

Jamaat e islami

حکمران باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا وعدہ پورا کریں ، تعلقہ موومنٹ

باڈہ (نمائندہ جسارت) “حکمرانوں اپنے وعدے پورے کرو، باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری کرو” کے نعروں کے ساتھ باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے ڈپٹی کنوینرز زیب علی ساریو، اور کامریڈ قادر بروہی کی قیادت میں باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پانی کی قلت کی وجہ سے باڈہ پریس کلب سے اریکیشن آفس تک ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہفتے وار احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں باڈہ شہر کی مختلف سیاسی سماجی، علمی ادبی اور کاروباری تنظیموں کے رہنماؤں عزیز بروہی، دودو دیشی، کامریڈ منور نوناری، اصغر نوناری، فدا حسین تنیو، شمس الدین پنہور، عالم بروہی، صفر، نبی رضا بلوچ، واحد سندھی، محمد ہاشم مدنی سومرو، محمد امین سیال، مور سندھی، مرتضیٰ گوپانگ، منان کلھوڑو، علی زہری، فقیر جلال ساریو، ملوک ساریو، اور دیگر شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں سے باڈہ کو تحصیل بنانے کے لیے ہر اتوار کو گرمی سردی طوفان اور بارشوں میں احتجاجی مظاہرہ کرکے سندھ کے حکمرانوں کے ساتھ علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کو ان کے کیے ہوئے وعدے یاد دلاتے ہیں جو انہوں نے پہلی الیکشن مہموں میں باڈہ مکینوں سے کرکے ووٹ لیے اور اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے، لیکن اقتدار ملتے ہی وہ باڈہ شہر اور مکینوں کو بھول گئے ہیں گزشتہ دور حکومت کے 15 سالوں میں پیپلزپارٹی رہنماؤں نے باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرکے مکینوں کے ووٹوں کا تقدس پامال کیا ہے جس وجہ سے شہریوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا ہے لوگ اپنی گاڑیاں جلا رہے ہیں اور گھروں میں فاقہ کشی اور بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھ کر لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں لیکن عوامی نمائندے اندھے بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ارسا اور وفاق کی ملی بھگت سے سندھ کو حصے کا پانی نہیں دیا جا رہا جس سے سالوں سال سندھ کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمینات بنجر ہو رہی ہیں اور کسانوں کا معاشی استحصال ہورہا ہے۔ مزید انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کے فوری طور سندھ کو اس کے حصے کا پورا پانی فراہم کرکے سندھ کی زمینات کو مزید بنجر ہونے سے بچایا جائے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آدھے سے زائد کمی کرکے عوام کو رلیف فراہم کیا جائے اور باڈہ تحصیل کا فوراً نوٹیفکیشن جاری کرکے مکینوں میں پھیلی بے چینی ختم کی جائے نہیں تو احتجاجی دائرہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔ اور ہماری جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے۔