مزید خبریں

Jamaat e islami

اقتصادی عدم استحکام کے باعث مؤثر بجٹ مشکل ہے

اسلام آباد( نمائندہ جسارت)دس جون کو پیش کیے جانے والے عبوری بجٹ کے اعداد و شمار انتہاء غیر یقینی ہیں اور ماہ کے آخر میں منظور ہونے والے حتمی بجٹ تک انکے اسی طرح رہنے کے امکانات کم ہیں۔ اس وقت موجودہ سیاسی عدم استحکام نے اقتصادی عدم استحکام کے ساتھ مل کر ایک مؤثر بجٹ کی منصوبہ بندی اور منظوری کے لیے بہت نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس بات کا مشاہدہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے زیر اہتمام ‘فیڈرل بجٹ 2022-23: ایک جائزہ’ کے عنوان سے ہونے والے ایک ہائبرڈ سیمینار کے دوران کیا گیا جس کا انعقاد آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور اس کی معاشی سمت کا پالیسی سازی کے نظریے سے جائزہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ سیشن کی شریک صدارت پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور، ڈین، سوشل سائنسز، پیر مہر علی شاہ ایگریکلچر یونیورسٹی، راولپنڈی، اور خالد رحمن، چیئرمین آئی پی ایس نے کی جبکہ اس اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں عباس رضا، سابق چیئرمین، نیشنل ٹیرف کمیشن، ڈاکٹر پرویز طاہر، سابق چیف اکانومسٹ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان، ڈاکٹر وقار مسعود خان، سابق سیکرٹری خزانہ، ظہیرالدین ڈار، بانی، سینٹر فار انٹرنیشنل انٹرپرینیورشپ اینڈ ٹریڈ، ڈاکٹر سلمان احمد شیخ، ڈائریکٹر اسلامک اکنامکس پروجیکٹ اور مرزا حامد حسن، سابق وفاقی سیکرٹری شامل تھے۔ اس کے علاوہ ظفر الحسن الماس، جوائنٹ چیف اکانومسٹ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ ڈاکٹر پرویز طاہر کا موقف تھا کہ موجودہ بجٹ اس کی تیاری کے پیچھے کسی سنجیدگی اور فلسفے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے اہداف مقرر کرنے کے باوجود پاکستان معاشی ڈھانچے میں موروثی چیلنجوں اور حدود کی وجہ سے ترقی کی طرف نہیں بڑھ رہا۔ حقیقی ترقی کے ظاہر ہونے سے پہلے بہت سے مسائل اور چیلنجز کچھ عرصے تک موجود رہیں گے۔ انہوں نے مزید کچھ چیلنجوں کی نشاندہی کی جن میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی کم شرح اور ترقی کے ہدف کی سمت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح نمو 6 فیصد سے زیادہ پاکستان کے لیے بحران پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف کی مداخلت اور کردار کے بغیر اپنی منصوبہ بندی کرتا تو اس کی پوزیشن مختلف ہوتی۔ ظہیرالدین ڈار نے نشاندہی کی کہ اس بجٹ کے اثرات اور نتائج کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اعداد و شمار میں تبدیلی متوقع ہے اور اصل تصویر مالی سال کے آخر میں اکاؤنٹس بند کرنے سے واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے پہلے ہی ڈیفالٹ حالت سے گزر رہا ہے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے اشرافیہ طبقے کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی، جب کہ موجودہ حالات میں غریب طبقہ ہی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت ہر سال کم ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں ٹیکس کی شرح میں مسلسل اضافہ، ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ڈار نے کہا کہ یوکرین کے تنازع کی وجہ سے پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کو اپنی معیشت میں بروقت سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ پیداواری صلاحیت بڑھ سکے۔ عباس رضا کا خیال تھا کہ بجٹ ایک طرف تجارتی خسارے اور دوسری طرف غیر منظم غیر ملکی اور ملکی قرضوں سے دوچار معیشت کی انتہائی تاریک حالت کو پیش کرتا ہے۔ انہوں نے قرضوں کی واپسی، گھریلو محصولات کو متحرک کرنے، صنعتی بحالی، پی او ایل کی قیمتوں پر قابو پانے، اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے موثر پالیسیاں اور اقدامات تجویز کرنے میں ناکامی کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر وقار مسعود کا موقف تھا کہ بجٹ عوام کی شکایات کو دور کرنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے تجارتی خسارے، محصولات کی پیداوار، ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کے مسائل اور حکومت کے اخراجات پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر سلمان احمد پبلک سیکٹر کے ترقیاتی پروگراموں اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے لیے بجٹ کے کم تناسب پر زیادہ فکر مند تھے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس سال صحت، سائنس اور تعلیم جیسے پبلک سیکٹر کے ترقیاتی شعبے کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار کا بریک ڈاؤن پیش کرتے ہوئے، انہوں نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ تقسیم میں کتنی خامیاں ہیں اور اہداف کا حصول کتنا مشکل ہوگا۔ حامد حسن نے توانائی، پانی اور خوراک کے تحفظ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔