مزید خبریں

Jamaat e islami

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 405فلسطینی بچے گرفتار

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے رواں برس کے دوران مختلف مواقع پر 450 فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ فلسطینی بچوں کو جیل میں ڈالنا قابض اتھارٹی کا خاص حربہ ہے،جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ سال قابض اتھارٹی نے 1300 فلسطینی بچے گرفتار کیے تھے۔ 2022 ء کے 6ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہی گرفتار کیے جانے والے ان فلسطینی بچوں میں سے 353 بچوں کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس سے ہے۔ ان میں سے 170 فلسطینی نو عمر آج بھی اسرائیلی جیلوں میں ہیں۔ کئی بچوں کو لمبے عرصے سے قید رکھا گیا ہے اور وہ قیدخانے ہی میں جوان ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی قابض اتھارٹی نے نہ صرف ان کی طویل نظربندی کے احکامات جاری کرتی ہے بلکہ انہیں تمام تر بنیادی انسانی حقوق اور طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ انہیں قانونی و جائز عدالتی حقوق نہیں دیے جاتے۔دوسری جانب یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے زیتون کے درخت کاٹ کر تباہ کر دیے ۔ یہ ناک واقعہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں پیش آیا۔ فلسطینی زمیندار محمد حسین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے گروہ نے زیتون کے 8درخت کاٹ دیے۔ واضح رہے کہ چند روز کے دوران زیتون کے باغات پر یہودیوں کا یہ تیسرا حملہ ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قابض اتھارٹی غزہ کے علاقے میں فلسطینی عوام کی معاشی تباہی کی براہ راست ذمے دار ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے اسرائیلی محاصرے کے 15سال مکمل ہونے پر جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کا محاصر انسانیت کے خلاف واضح جرم ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں رپورٹ کا خیر مقدم کیا گیا۔