مزید خبریں

Jamaat e islami

قومی اسمبلی ،توہین رسالت کا معاملہ اوآئی سی اور اقوام متحدہ میں اٹھانے کا فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان اسمبلی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض ارکان کی جانب سے حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخانہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاملہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔گزشتہ روز وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو کی گئی درخواست پر اس معاملے پر ایوان زیریں میں ایک گھنٹے تک بحث کی گئی۔ارکان اسمبلی نے حکومت پر زوردیا کہ وہ اس معاملے کو او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فور مزپر اٹھائے۔ اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھارت میں ہونے والی توہین رسالت کے خلاف بحث شروع کردی گئی ہے جبکہ گزشتہ اجلاس میں یہ طے ہوا تھا کہ توہین رسالت ﷺکے معاملے پر بجٹ بحث اوپن کرنے سے قبل بحث ہوگی۔اجلاس میں ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی سید عمران احمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں توہین رسالت سے 2ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ،بھارت میں ہوئی توہین رسالتﷺ پر یہ ایوان صرف قرارداد منظور کرنے تک نہ رہے تقریروں سے کام نہیں بنے گا،امام مالک رضاقرار دے چکے ہیں توہین رسالت کا بدلہ لینا چاہیے امام مالک سے پوچھا گیا کہ اگر امت توہین رسالت کا بدلہ نہ لے سکے تو کیا کرنا چاہیے ،امام مالک نے فرمایا اس امت کو مر جانا چاہیے۔ سید عمران احمد شاہ نے مزید کہا کہ بھارتی سے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،اسپیکر رولنگ دے کہ معاملے کو وزارت خارجہ اٹھائے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر راجا ریاض نے مطالبہ کیا کہ میری درخواست ہے کہ توہین رسالتﷺ پر ایوان میں قرارداد متفقہ طورپر منظور کی جائے اس میں اپوزیشن کو بھی ساتھ ملایا جائے۔جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا اکبر چترالی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضورﷺسے ہماری محبت ایمان کا حصہ ہے،بھارت میں جو ہوا ناقابل برداشت اور ناقابل معافی جرم ہے ،ڈنمارک میں توہین رسالتﷺ پر کارروائی کا مطالبہ کیا تو کہا گیا مغرب ناراض ہو جائے گا،مسلم ممالک اور پاکستان بھر میں احتجاج ہوئے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا،مسلم ممالک کو اس معاملے پر غزوہ ہندہ ہونے کا اعلان کرنا چاہیے ،قومی اسمبلی میں جہاد کا نام لے لیں تو اچھالا جاتا ہے،حکومت کی طرف سے عملی اقدام اٹھانا چاہیے ،حکومت کو اپناسفیر بلا کر بھارتی سفیر کو ملک بدر کرنا چاہیے ،آج فولاد والا مومن نہیں ،یہاں تو گستاخ رسول کو پروٹوکول کے ساتھ باہر بھیجا گیا، ایسے حرکات کریںگے تو دشمنوں کی راہ ہموار ہوگی،دینی جماعتیں جب تک زندہ ہیں پاکستان میں حضور کی شان میں گستاخی کی جرأت نہیں کرسکے گا،حکومت بھارت سے سفارتی تعلقات ختم اور سفیر کو 24 گھنٹے میں ملک بدر کرے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری امت مسلمہ کا دل اور جگر زخمی اور دماغ پریشان ہیں، انسانی حقوق کے چمپئن کیوں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ،سیکولر کہنے والا بھارت آج انتہائی انتہا پسند ہوچکا ہے، بی جے پی والے حکمران ہیں مگر وہ جس طرح توہین کی جسارت کررہے ہیں وہ ناقابل قبول ہے، وزارت مذہبی امور میں تمام مسلم ممالک کو اکٹھا کرکے اس حوالے سے خبردار کریں گے ،بین الاقوامی رحمت اللعالمین کانفرنس بلاکر گستاخوں کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا جائے گا کسی کو یہ اجازت نہیں دیںگے کہ وہ رسول اللہ کی حرمت کے حوالے سے زرہ کے برابر گستاخی کرے اگر رسول اللہ کی گستاخی ہورہی ہو اور پاکستان خاموش ہو پھر اس کا کیا فائدہ؟ امید ہے ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان کا نواسہ بھی حرمت رسول کے حوالے سے جرات مندانہ اقدام کرے گا ۔وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ سے مطالبہ ہے وہ اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی اور او آئی سی میں آواز اٹھائیں ،بھارت کو آنکھیں دکھانے کا وقت آیا، یہ اس طرح ٹھیک نہیں ہوگا اسے ٹھیک کرنا پڑے گا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج منگل شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے بھارت میں گستاخانہ بیانات کے خلاف مذمتی قراردادمتفقہ طور پر منظور کرلی جس میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت نے شان رسالت میں توہین کرکے مسلم امہ کی دل آزاری کی ہے۔ قرارداد پیپلزپارٹی کی خاتون رکن سعدیہ جاوید کی جانب سے پیش کی گئی۔قرارداد کے مطابق بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی آرایس ایس کی مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت کے توہین آمیز بیانات کے خلاف وفاقی حکومت بھارت سے سخت احتجاج کرے۔ایوان میں قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ر کن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے ر ہنما سید عبد الرشید نے کہا کہ جس جس نے رحمت العالمین کی شان میں گستاخی کی ہے، دنیا دیکھے گی وہ اس دنیا میں رسوا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 ہائیوں سے دنیا میں یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ہم پہلے امریکا سے ڈرتے تھے اب بھارت سے ڈرنے لگے ہیں،دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کے پاس غیرت موجود نہیں ہے،اگر غیرت ہوتی تو کسی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی ،اگر ہم فرانس کے سفیر کو نکال دیتے تو آج ہمیں یہ ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے خاتم النبین قانون منظور کرایا،آج ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ وزیر خارجہ ہے ان کے سر پر بھی سہرا جانا چاہیے کہ وہ اس وقت شان رسالت کے حوالے سے اپنا کردار اداکرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی مصنوعات اوربھارت کے انٹرٹینمٹ کا بائیکاٹ کیا جائے، بھارتی سفیر کو واپس بھیجا جائے اور بھارت سے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں ۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے کہا کہ حکومت پاکستان بھارتی گستاخانہ بیانات کے خلاف او آئی سی میں معاملے کو اٹھائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے ایمان کا معاملہ ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ بھارت میںمسلمانوں کیخلاف انتہاپسندانہ اقدامات کیے جارہے ہیں جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آقا کی وجہ سے مسلمان ہیں اور آقا آئے تو ہمیں قرآن پاک ملا،یہ نہیں سکتا کہ نبی کے شان میں کوئی گستاخی کرے اور مسلمان خاموش رہیں ،محمد حسین نے کہا کہ ہم سب سندھ اسمبلی کے اراکین کا مطالبہ ہے کہ عرب ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بھارتی سفیر کو نکالا جائے بھارتی پروڈیکٹس کا بائیکاٹ کیا جائے۔محمد حسین کا کہنا تھا کہ جب بھارتی حکومت پر دبا? ڈالا جائے گا تو وہ اس طرح کے عمل سے اجتناب کریں گے ورنہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر گستاخی کا عمل جاری رہے گا۔ جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ انتہا پسند بی جے پی کے گستاخانہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارتی انتہاپسندوں کی شرمناک حرکت سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت سے سیاسی معاشی سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی نبی کریم ٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا ہے،وہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے آئے تھے۔ ہم مودی پر لعنت بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس جس نے گستاخی کی اس کا انجام بھی ساری دنیا دیکھے گی۔بھارت کا چہرہ سب کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا وزیر خارجہ کی حیثیت سے بلاول بھٹو پر پوری ذمے داری ہے کہ وہ اس معاملے کو پوری دنیا کے سامنے اٹھائیں۔صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھارت میںہمارے مذہب کے خلاف ایک نفرت اور تعصب پایا جاتاہے کیونکہ ان کو معلوم ہے شان سالت کے معاملے پر ہرمسلمان مرنے اور مارنے پر تیار ہوجاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے بھارت میں شیطان نما وزیر اعظم آیا ہے،وہاں پر مسلمانوںکے لیے زندگی عذاب بن گئی ہے،کبھی حجاب پر تماشا کیا جاتا ہے۔کبھی مسجدوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔