مزید خبریں

Jamaat e islami

ملک بھر کی تاجر برادری نے وفاقی بجٹ کو مثبت قرار دے دیا

کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید) بزنس کمیونٹی نے وفاقی بجٹ کو بظاہر مثبت قرار دیا ہے ۔ دوسری جانب معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹھوس اقدامات نہیں نظر آئے،اس وقت پاکستان بحران کی کیفیت سے دوچار ہے‘ فوڈ انفلیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال نے لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے بجٹ پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر مکمل رائے پرابھی مکمل اظہار خیال تو نہیں کرسکتے ‘ فنانس ایکٹ کے بعد بجٹ پرمکمل جواب دیا جائے گا‘ موجودہ حالت میں بجٹ پیش کرنا آسان نہیں تھا، ایف پی سی سی آئی نے بجٹ پر جو تجاویز دیں ان میں بیشتر مانی گئی ہیں‘چھوٹے تاجروں پر فکسڈ ٹیکس کی تجویز بھی مان لی گئی‘ انڈسٹری کے خام مال پر ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹیبل کرنے کی تجویز مان لی گئی ہے، نئے مالی سال میں جی ڈی پی نمو 5 فیصد رکھنا معقول ہے‘ بجٹ میں ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں40 ارب روپے دینے کی بہتر تجویز ہے، صحت کے لیے 24 ارب روپے رکھے ہیں اس میں زیادہ رقم رکھنی چاہیے تھی‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ درست ہے‘ نجی شعبے کے ملازمین کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا‘ پی ایس ڈی کی مد میں 800 ارب روپے رکھے ہیں‘ تعلیم کے شعبے کے لیے بھی زاید رقم رکھنی چاہیے تھی۔صدر کراچی چیمبر محمد ادریس نے کہا کہ سولر آلات پر ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش ماننے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، چند ماہ کی حکومت نے اچھا بجٹ دیا ہے‘اے ڈی آر سی کا قیام دیرینہ مطالبہ تھا جسے حکومت نے مان لیا‘ آئی ٹی کے لیے مختص رقم 500 ارب روپے تک بڑھائی جائے۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ حکومت نے بجٹ سے پہلے بجلی اور گیس مہنگی کی اور شرح سود بڑھائی‘ ڈالر بھی مہنگا ہوگیا‘ تنازعات کے حل کے لیے 2 افراد ٹیکس دینے والوں کے نمائندے ہوںگے‘ زراعت کی ماڈرنزائش کرنا اچھا قدم ہے‘ قابل لوگوں کو ساتھ لائیں‘ یہ کام جاگیرداروں پر نہ چھوڑا جائے‘ صنعتی خام مال کے ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ اچھا ہے‘بینکوں کے نفع پر ٹیکس بڑھانے کا بہتر فیصلہ ہے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر طفیل نے کہا کہ بظاہر تو بجٹ بہتر ہے لیکن ابھی بہت سی باتیں سامنے آنا ضروری ہیں۔سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا کہ ایکسپورٹ ہدف35 ارب ڈالر مقرر کرنا خوش آئند ہے لیکن اگر اسے ہدف کو حاصل کرنا ہے تو زرعی سیکٹر پر توجہ دے کر فصلوں کی پیداوار بڑھانا ہوگی‘سیڈز پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بہتر قدم ہے۔ سابق صدور کے سی سی آئی ہارون فاروقی اور انجم نثار نے کہا کہ سارا پاکستان سوچ رہا تھا کہ سخت بجٹ ہوگا مگر ایسا نہیں ہے‘ ایف بی آر نے ٹیکس وصولی بڑھائی ہے‘ 350 آئٹمز پر کسٹم ڈیوٹی کم ہوگی‘ گاڑیوں پر100 فیصد ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے‘ بجلی کے بل میں 100 روپے لگ رہے ہیں‘ پراپرٹی پر 5 فیصد رینٹ اور1 فیصد ٹیکس لگائے گئے۔یو بی جی خیبر پختونخوا کے رہنما معروف بزنس لیڈرحاجی افضل نے کہا کہ حکومت کا چھوٹے تاجروں کو فکسڈ ٹیکس کے نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔اپٹما کے آصف انعام نے کہا کہ غلطی کسی اور کی اور بھگتنا ہمیں پڑ رہی ہے، لگتا نہیں کہ 8 ماہ میں کموڈٹی قیمتیں کم ہوسکیں گی۔ فارما سیکٹر نے بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فارما سیکٹر کے ایک ممبر ارشد علی نے کہا ہے کہ فارماسیوٹیکل کے خام مال پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ کی اجازت دی جاتی مگر حکومت نے ایسا نہ کیا اس طرح تو ادویات کی قیمتیں بڑھیں گی۔