مزید خبریں

Jamaat e islami

لوڈ شیڈنگ پر وزیر اعظم برہم، وزرا اور افسران کی وضاحتیں مسترد

اسلام آباد(صباح نیوز،اے پی پی) وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ بھی کریں لیکن دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کچھ برداشت نہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی غیر معمولی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ہوا، اجلاس میں سرکاری افسران کے علاوہ (ن)لیگ کے سینئر نائب صدرشاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، مصدق ملک اور دیگر شریک ہوئے،ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صرف 2 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ 10 گھنٹے سے زائد ہے، میں آپ کے جھوٹ کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، اگر آپ مجھے لوڈشیڈنگ کی یہ تاویل دے رہے ہیں تو میں نہیں مانتا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف وزراء اورافسران پر برس پڑے اور ان کی وضاحتوں کو مسترد کردیا۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ بھی کریں لیکن دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کچھ برداشت نہیں، مجھے وضاحتیں نہیں چا ہییں، عوام کو مشکل سے نکالیں، عوام کو لوڈشیڈنگ کی تکلیف سے نجات چاہیے، عوام تکلیف میں ہوں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت گوادر میں پانی و بجلی کا کوئی بھی منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہی، اربوں روپے اور قیمتی وقت ضائع کیا، گوادر ائر پورٹ اور گوادر بندرگاہ کی صورتحال اچھی نہیں، پاکستان کی ترقی بلوچستان میں امن ، استحکام اور ترقی سے منسلک ہے۔ ہفتہ کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کے دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی حکومت نے گوادر کے لوگوں کو مایوس کیا، اربوں روپے اور قیمتی وقت ضائع کیاگیا۔ گوادر کی بندرگاہ کیلیے بڑی قربانیاں دینے والے مقامی افراد کے لیے پانی و بجلی کے مسائل کے حل کے لیے کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں کیاجا سکا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ اور گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کی صورتحال بھی ٹھیک نہیں ہے۔ بندرگاہ پر کوئی ڈریجنگ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کوئی بڑا کارگو جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر یونیورسٹی، ائرپورٹ اور پینے کے صاف پانی کے لیے ڈی سیلی نیشن پلانٹ کی تنصیب کی جلد تکمیل کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی ترقی بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے منسلک ہے۔ اتحادی حکومت بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی عمائدین کے ساتھ مل کرمستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے پرعزم ہے۔