مزید خبریں

نصرتِ دین اور خواتین

…رحمت

…حلال کھاؤ

عمران خان کے متنازع بیان پر سینیٹ میں گرما گرمی،الزامات کی پوچھاڑ

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے متنازع انٹرویو پر حکومتی اور اپوزیشن سینیٹرز کے مابین شدید گرما گرمی اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ۔ حکومتی اراکین نے عمران خا ن کے بیان پر شدید تنقیدکرتے ہوئے بیان واپس لینے کا مطالبہ کردیا جبکہ اپوزیشن نے سابق وزیر اعظم کے بیان کو ملکی حالات کے عین مطابق قرا ردیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک التوا ء پر بات کرتے ہوئے کہاکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کل ارشادات فرمائے، ان کے بیان سے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے۔ سابق وزیر اعظم نے اقتدار سے جانے کے بعد جس طرح کے بیانات داغنے شروع کردیے ہیں وہ ملکی سلامتی و بقا کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہیں، سابق وزیر اعظم اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔اس موقع پر قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ اپوزیشن نے ہمیں ایک موقع دیا ہے کہ ہم انہیں آئینہ دکھا سکیں ،انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم کے جس بیان کا حوالہ دیا جارہا ہے اس کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے اس کی وضاحت کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ قیادت دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور آئندہ آنے والے واقعات پر گہری نظر رکھتی ہے اور ملکی معاملات کو ایک بڑے پیرائے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں واقعات کا تسلسل ایک سرخ بتی کی مانند ہے اگر اس پر بات نہ کی جائے اور صرف الزامات لگائے جائیں تو یہ ملک کیلیے اچھا نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ کیا یہ ملک ماضی میں بڑے بڑے خطرات سے دوچار نہیں ہوا کیا ہم اپنی تاریخ سے نظر چرا سکتے ہیں کیا ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھیں گے یا نہیں انہوںنے کہاکہ عمران خان نے انہی خطرات اور رویوں کی نشاندھی کی جب ایک اکثریت کو ایک مراسلے کے بعد اقلیت میں تبدیل کیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ ہوا۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ سابق حکمرانوں کو اپنی غلطیوں پر سوچنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم غداری کے مترادف ہیں اور ملک سے غداری کرنے والے کو سزا ملنی چاہیے ۔یوسف رضا گیلانی نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ آپ بھی 5 سال پورے کرتے لیکن تحریک عدم اعتماد ایک مکمل جمہوری طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 85 کے غیر جماعتی انتخاب میں حصہ نہ لے کر ایک غلطی کی تھی اور وہی غلطی آج آپ نے کی، بینظیر بھٹو نے مجھے کہا تھا کہ کبھی پارلیمانی فورم چھوڑنے کی غلطی نہ کرنا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بحیثیت ایک پاکستانی کہ ملک 3 حصوں میں تقسیم ہوجائے گا، نہیں کہنا چاہیے تھا اور آپ کے دشمن بھی تو یہی کہتے ہوں گے کہ فوج تباہ ہوجائے گی، یہ کہنا کہ ملک دیوالیہ ہوجائے گا اور ایٹی اثاثے نہیں رہیں گے، ہم اس بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ سینیٹر اعجاز چودھری نے کہاکہ ایک بے گناہ سینیٹر کو 8گھنٹوں تک پنجا ب پولیس نے محبوس رکھا اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی لوگ ہیں ہم ہر قسم کی فسطائی ہتھکنڈوں کیلیے ہر وقت تیار رہتے ہیں، انہوں نے کہاکہ ہم نے ہر دور میں مشکلات کا سامنا کیا ہے، انہوں نے کہاکہ قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستا ن23برس بعد ادھر تم اور ادھر ہم کے نعرے کے بعد ٹوٹ گیا، انہوں نے کہاکہ اگر ہم حالات کی سنگینی پر غور نہیں کریں گے تو ملک کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے انہوں نے کہاکہ دنیا کے نقشے پر قائم ملک عراق کو جھوٹ کی بنیاد پر تباہ و برباد کردیا گیا اسی طرح لیبیا اور مصر کی حالت دیکھ لیں ایران اور افغانستان کو دیکھ لیں کہ ان کی استعمار نے کیا حالت کی ہے ہمیں کتوبر کی طرح آنے والے خطرات سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہییں۔