مزید خبریں

نصرتِ دین اور خواتین

…رحمت

…حلال کھاؤ

مساجد میں بچوں کے ساتھ رویہ

مساجد کو اللہ تعالیٰ کے گھر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور قرآن و حدیث نے کہیں یہ بات نہیں کہی کہ اللہ کا گھر بچوں یا عورتوں کے لیے بند ہے۔ لیکن کسی بھی گھر کے آداب کی طرح مسجد کے بھی آداب ہیں۔ مسجد کے آداب میں خشوع و خضوع اور خاموشی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ صفوں کے سلسلے میں نمازیوں کے مراتب کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ احادیث میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ امام کے فوری پیچھے وہ افراد ہوں جو قرآن کا علم زیادہ رکھتے ہوں تاکہ اگر امام سے سہو ہو تو وہ فوراً اس کی اصلاح کر دیں۔ صف بندی میں آغاز امام کے پیچھے سے کیا جائے اور پھر پہلے داہنی پھر بائیں جانب بالترتیب افراد صف بناتے جائیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ بچوں کو بعد کی صف میں رکھا جائے اور آخر میں خواتین تاکہ وہ مردوں سے دْور رہیں۔ نیز احادیث میں اس بات کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ عورت کی نماز گھر میں، مسجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں افضل ہے۔ اس لیے عام حالات میں خواتین کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنا چاہیے۔ مسجد میں نماز کے لیے اسی وقت آئیں جب ان کے لیے مسجد میں آنا ضروری ہے، مثلاً خطبہ جمعہ، درس قرآن، درس حدیث وغیرہ سے استفادہ کرنا۔ ایسی صورت میں مسجد میں حاضری دیں، نماز بھی باجماعت پڑھیں اور وعظ و درس سے بھی استفادہ کریں۔
بچوں کے حوالے سے ہمارا رویہ افسوس ناک ہے۔ اگر بچوں کے مساجد میں آنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تو آئندہ نسلوں کا اسلام سے تعلق بھی کمزور ہوگا۔ اس لیے بچوں کو مساجد میں آنے پر ابھارنے اور ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ مساجد میں ان کے لیے ان کے ہم عمر بچوں کے تعاون سے ایسے پروگرام ہونے چاہییں جن سے وہ نہ صرف نماز میں پابندی کے عادی ہوں بلکہ دینی معلومات بھی حاصل کر سکیں۔
بچوں کو شرارت سے روکنے کا ایک انتہائی آسان طریقہ یہ ہے کہ مردوں کی صف میں اگر دومردوں کے درمیان ایک بچہ کھڑا کر دیا جائے تو بچے نہ شورغل کر پائیں گے، نہ ایک دوسرے کو کہنی ماریں گے اور نہ کسی دینی اصول کی خلاف ورزی ہوگی، نیز بچوں کو آخر سے پہلی صف میں رکھنے کا جومقصد ہے اس کے لیے انھیں تیار کیا جائے۔ جب وہ اس قابل ہو جائیں تو پھر تربیت یافتہ بچوں کی صفیں مردوں کی صفوں کے بعد بنائی جائیں۔