مزید خبریں

مرکز اطلاعات فلسطین

القدس اور مسجد اقصیٰ پربیٹوں کوقربان کرنے پرفخر ہے‘اسماعیل ہنیہ
اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ اپنے 3بیٹوں اور 4پوتوں کی جانوں کے نذرانے پیش کرکے وہ اور ان کا خاندان ایک بار پھرفخر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے بچوں کو شہید کرکے فلسطینی تحریک آزادی کو کچل دے گا ۔دشمن کو یہ اندازہ نہیں کہ یہ شہادتیں مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے ہمارے سفر کو اور بھی تیز کررہی ہیں اور منزل کو قریب تر کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے بیٹوں پوتوں کا خون بیت المقدس اور الاقصیٰ کو آزاد کرانے کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں ہیں۔میں اس اعزاز کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام لوگوں اور غزہ کے رہایشیوں کے تمام خاندانوں نے اپنے بچوں کے خون کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔میرے خاندان کے تقریباً 60 افراد تمام فلسطینیوں کی طرح شہید ہوئے ۔دشمن اپنے اہداف میں کامیاب نہیں ہوگا ۔دشمن قتل و غارت، تباہی اور قتل عام کے ذریعے جس چیز پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا وہ اسے مذاکرات کے ذریعے بھی حاصل نہیں کرسکے گا۔دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ میرے بیٹوں کے قتل سے ہم اپنی پوزیشن بدل لیں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ میرے بچوں کا خون غزہ کے ہمارے شہیدوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے، کیونکہ یہ سب میرے بیٹے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ رفح پرحملے کی صہیونی دشمن کی بزدلانہ دھمکیاں ہمارے لوگوں یا ہماری مزاحمت کو خوفزدہ نہیں کرسکتیں ہیں۔ہم صہیونی حکومت کی بلیک میلنگ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے عید الفطر کے پہلے روز شام کو غزہ کے مغرب میں واقع الشاطی کیمپ میں ایک گاڑی پر بمباری کی جس میں اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے افراد سوار تھے۔ اس حملے میں ان کے 3بیٹے حازم، عامر اور محمد اور 4پوتے شہید اور کئی افراد شدید زخمی ہوگئے۔ شہدا اور زخمیوں میں 4بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران 13 ہزار فلسطینی لاپتا ہوئے
انسانی حقوق کی یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے فوری طور پر بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کی بمباری سے گھروں اور عمارتوں کے ملبے کو ہٹانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تیار کرائی جائیں جو ملبے تلے پھنسے لوگوں کونکالنے اور شہید ہونے والے ہزاروں افراد کی لاشیں نکالنے کی کوشش کریں۔ایک بیان میں یورو میڈ نے اسرائیل پر فیصلہ کن بین الاقوامی دباؤ کا مطالبہ کیا کہ وہ اس ملبے کو ہٹانے کے لیے کام کرنے والے لوگوں اور عملے کے کام کو محفوظ بنائے، جس میں شہری دفاع کے عملے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں لاپتا فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست افراد کا پتا چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں جبری گمشدگی، قتل اور غیر قانونی سزائے موت کے جرائم اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں تحقیقات پر بھی زور دیا گیا۔یورومیڈیٹیرینین آبزرویٹری نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے اندازوں کے مطابق ملبے تلے 13ہزار سے زائد فلسطینی لاپتا ہیں۔ اس کے علاوہ لاتعداد افراد اجتماعی قبروں میں دفن کیے گئے ہیں یا اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میںقید ہیں۔ ان میں سے کچھ کو حراستی مراکز میں بے دردی سے شہید کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک ان قیدیوں اور زیر حراست افراد کے قتل کے حالات کے بارے میں معلومات شائع نہیں کی ہیں اور کوئی بھی آزاد فریق ابھی تک ان کے قتل کے حالات کی تصدیق اور شناخت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی لاشوں کو ابھی تک نہیں نکالا گیا اور ان کی شناخت نہیں کی گئی۔یورومیڈیٹیرینین آبزرویٹری نے خبردار کیا کہ یہ تخمینہ لاپتا افراد کی ابتدائی رپورٹوں پر مبنی ہے۔ اس مرحلے میں لاپتاافراد کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔رپورٹ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مظالم کے حوالے سے کہا گیا کہ صہیونی ریاست کا مقصد فلسطینی خاندانوں کو منتشر کرنا ہے، خاص طور پر خاندانوں کو محفوظ راستے فراہم کیے بغیر نقل مکانی پر مجبور کرنا۔اس دوران خاندان کے افراد کو الگ کر کے انہیں مختلف علاقوں میں جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بعض کو گرفتار کرکے غائب کیا جاتا ہے یا شہید کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ اور موبائل تک رسائی محدود کرکے ان کا دنیا سے رابطہ منقطع کردیا جاتا ہے۔

غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید
فلسطین کے علاقے غرب اردن میں طوباس شہر میں قائم الفارعہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کی کارروائی میں ایک فلسطینی نوجوان شہید اور کئی د زخمی ہوگئے۔فجر کے وقت اسرائیلی فوج نے الفارعہ کیمپ پر دھاوا بولا اور شہریوں کے گھروں میں گھس کرانہیں زدو کوب کیا۔فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس دوران جھڑپوں میں قابض فوج نے فلسطینی نوجوانوں پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید اور 4زخمی ہوگئے۔ان میں سے ایک 35 سالہ شخص کے پیٹ اور گردن میں گولی لگی جسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دیگر زخمیوں کو طوباس شہر کے ترکی اسپتال لے جایا گیا ہے۔زخمیوں میں سے ایک لڑکے کی عمر 17 سال اور ایک نوجوان کی 25 سال بیان کی جاتی ہے۔

صحافتی تنظیموں کی غزہ میں صحافیوں پر حملے کی مذمت
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے ایک پریس بیان جاری کیا ہے جس میں وسطی غزہ کی پٹی کے نصیرات کیمپ میں میڈیا کوریج کے دوران 3صحافیوں کو قابض فوج کی جانب سے جان بوجھ کرنشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔دفتر نے بتایا کہ اسرائیلی قابض فوج کی نسل کشی کی جنگ کے تسلسل میں قابض فوج نے صحافتی پیشہ وارانہ کام اور نصیرات کیمپ میں جارحیت کی میڈیا کوریج کے دوران جان بوجھ کر 3فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنایا،جن میں فوٹو جرنلسٹ سمیع محمد شحادہ، سی این این کے فوٹو جرنلسٹ محمد حسن السوالحی اور فوٹو جرنلسٹ احمد بکر اللوح شامل ہیںجو ایک فیلڈ فوٹوگرافر کے علاوہکئی میڈیا آؤٹ لیٹس شامل تھے۔قابض فوج نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پریس جیکٹ پہنے ہوئے تھے جس پر واضح طور پر پریس لکھا ہوا تھا۔اس کے علاوہ مختلف صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی۔واضح رہے کہ پریس کے عملے کو نشانہ بنانے کا جرم عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں آتا ہے ۔ غزہ کی جنگ کے دوران اب تک 140 صحافی شہید ہوچکے ہیں۔

غزہ کی لڑائی میں مزید 9 اسرائیلی فوجی اور افسر زخمی
اسرائیلی قابض فوج نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حماس کے ساتھ لڑائی کے دوران اس کے 9 افسران اور فوجی زخمی ہوئے۔قابض فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے علاقے میں جاری زمینی کارروائیوں کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی فائرنگ سے اس کے 4 فوجی مارے گئے۔مرنے والوں میں 3 فوجی اور کیپٹن کے عہدے کا ایک افسر شامل تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک فوجی ہلاکتوں کی تعداد 604 ہو گئی۔

غزہ میں نسل کشی میں معاونت‘ جرمنی عالمی عدالت کے کٹہرے میں
بین الاقوامی عدالت انصاف نے جرمنی کے خلاف نکاراگوا کی طرف سے جمع کرائی گئی عارضی اقدامات کی درخواست پر عوامی سماعت شروع کردی، جس میں برلن پر اسرائیل کی فوجی اور سیاسی حمایت کے ذریعے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا۔نکاراگوا نے 43 صفحات پرمشتمل مقدمہ پیش کیا تھا۔نکاراگوا نے اپنے مقدمے میں کہا کہ جرمنی 1948ء میں نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس پر نازی ہولوکاسٹ کے بعد دستخط کیے گئے تھے۔ جرمنی اسرائیل کو فوجی سازوسامان بھیج کر اور اونروا کے لیے فنڈنگ روک کر نسل کشی کے کمیشن میں سہولت فراہم کرتا ہے۔نکاراگوا نے عدالت کے ججوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات نافذ کریں تاکہ جرمنی کو اسرائیل کو ہتھیاروں سمیت ہر قسم کی مدد کی فراہمی بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کا سسٹم ہیک ہوگیا
عبرانی اخباراسرائیل ٹوڈے نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع کے سسٹم کو ہیک کر لیا گیا ہے، جس سے حساس معلومات کے لیک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عبرانی اخبارنے رپورٹ کیا کہ ہیکرز نے اعلان کیا کہ انہوں نے فوج کی وزارت کے کمپیوٹرز میں گھس کرحساس معلومات حاصل کی ہیں۔انہوں نے ٹیلیگرام پلیٹ فارم پر گروپوں میں معلومات شائع کیں اور ایک ویڈیو کلپ بھی شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ انہوں نے فوج کی وزارت کے نظام میں کیسے گھس کر معلومات تک رسائی حاصل کی۔اخبار کے مطابق ہیکرزنے ایسی دستاویزات شائع کیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ فوج کی وزارت کے لیے معاہدے ہیں اور 50 بٹ کوائنز (تقریباً 33 لاکھ ڈالر) کے عوض مختلف فورم میں فروخت کے لیے مکمل معلومات پیش کیں۔