مزید خبریں

محمد سلیم اور محمد داؤد ملازمت پر بحال

محمد سلیم اور محمد داؤد سائٹ میں واقع میسرز کروسیکس پرائیوٹ لمیٹڈ میں مستقل ملازم تھے۔ کمپنی کی انتظامیہ نے غیر قانونی اور زبانی طور دونوں کی ملازمت ختم کردی تھی۔ دونوں مزدوروں نے سندھ لیبر کورٹ میں ملازمت پر بحالی کا مقدمہ دائر کیا۔ کمپنی انتظامیہ کا موقف تھا کہ دونوں مزدور کام سے غیر حاضر تھے جس پر ان کو چارج شیٹ جاری کی گئی جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا اس کے بعد انکوائری کی گئی جس میں یہ حاضر نہیں ہوئے اور اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد ان کو ڈسمس کیاگیا۔ گواہی کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ نہ تو کمپنی نے کوئی چارج شیٹ دی تھی نہ ہی کوئی انکوائری کی گئی اور نہ ہی ان کو ڈسمسل لیٹر دیاگیا۔ کمپنی نے دونوں مزدوروں کو زبانی نکالا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔ معزز سندھ لیبر کورٹ نمبر چار کراچی کی جج ارجمند عزیز نے دونوں مزدور کو واجبات کے ساتھ ملازمت پر بحال کردیا۔ مزدورں کی پیروی باچا فضل منان ایڈوکیٹ نے کی۔