مزید خبریں

حکومت اور سرداروں کی سرپرستی میں اغوا انڈسٹری قائم ہے، عوامی تحریک

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ عبداللہ بپڑ کے بھانجے نعیم اختر بپڑ کو ڈاکوؤں کی جانب سے اغوا کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر لال جروار، مرکزی نائب صدر ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی میڈیا سیکرٹری کاشف ملاح،  مرکزی رہنما ایڈووکیٹ نجیب الرحمٰن مہیسر اور ایڈووکیٹ آصف کھوسو نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت اور سرداروں کی سرپرستی میں اغوا انڈسٹری قائم کی گئی ہے، لوگوں کو اغوا کرکے اغوا برائے تاوان کی صورت میں لاکھوں روپے کمانا کاروبار بن گیا ہے، گھناؤنے کاروبار میں علاقائی سردار، ضلعی انتظامیہ اور ڈکیت شامل ہیں۔ سردار، انتظامیہ اور حکومت ڈکیتوں کی سرپرستی کرتے ہیں، امن و امان کے نام پر رینجر کو سندھ کی بجٹ سے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں، اس کے باوجود رینجر امن و امان بحال نہیں کر سکی۔خانپور تعلقہ کے گاؤں مہرو کے مکین پولیو افسر نعیم بپڑ کو کل ناپرکوٹ تھانے کی حدود سے مسلح افراد نے اغوا کر لیا لیکن ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے حلف اُٹھاتے ہی ڈاکوؤں کو چھوٹ دے دی، سرکاری اہلکار ڈاکوؤں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔