مزید خبریں

قرضوں کے حصول کیلیے عوامی رضامندی لازم ہے، محفوظ النبی

کراچی (پ ر) آئی ایم ایف سمیت ہر قسم کے بیرونی قرضوں کے حصول کے لیے عوام کی رضامندی لازم ہے۔ عوام ہی پاکستان کے اصل مالک اور اقتدار اعلیٰ کے امین ہیں۔ ان تاثرات کا اظہار معروف سماجی و سیاسی رہنما محفوظ النبی خان نے سول سوسائٹی کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جن میں محمد صدیق بلوچ، حلیم خان غوری، راجہ آزاد و دیگر ایکٹوسٹ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی سیاسی پارٹی کے انتخابی منشور میں بیرونی قرضوں کے حصول کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا جس کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک بھر کے ووٹرز عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر ممالک سے قرضوں کی مکمل تفصیلات سے لاعلم ہیں حالانکہ ان قرضوں کی ادائیگی بالآخر عوامی ٹیکسوں کے ذریعے ہی ہونی ہے۔ کوئی بھی حکومت ٹیکس دہندگان سے منظوری لیے بغیر عوام کے نام پر طویل المدت اور بھاری بھرکم قرضے مانگنے کی مجاز نہیں ہوسکتی۔ محفوظ النبی خان نے کہا کہ متواتر کئی دہائیوں سے ہر آنے والی حکومت نے من چاہے قرضے لے کر ریاست پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا ہے اور ملکی معیشت کو دیوالیہ کی نہج تک پہنچا دیا ہے، تاہم اب یہ سلسلہ فوری طور پر رکنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو بیرونی قرضوں اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیل زر کے بجائے سب سے پہلے اپنے اخراجات میں کمی، کرپشن کی روک تھام اور صنعت کاری، برآمدات اور زراعت کے فروغ کے ذریعے آمدن و اخراجات میں توازن قائم کرنا ہوگا جو کہ پاکستان کی سلامتی، عزت اور خودمختاری کا واحد حل ہے۔