مزید خبریں

Jamaat e islami

فضائی آلودگی سے سالانہ 51 لاکھ اموات کا انکشاف

لندن(انٹرنیشنل ڈیسک) ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے سالانہ 51لاکھ سے زائد اموات ہورہی ہیں۔ جرنل بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ توانائی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور صنعتی معاملات میں استعمال کیا جانے والا فاسل ایندھن ایک سال میں عالمی سطح پر 51 لاکھ 30 ہزار اضافی اموات کا سبب بنا ہے۔اموات کی شرح ان ممالک میں بلند پائی گئی جو کوئلے سے بجلی بنانے کے عمل کو ترک کرنے میں سست روی کا شکار ہیں۔ عالمی ماہرین کی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ فاسل ایندھن کے سبب فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کی شرح ماضی کے تمام تخمینوں سے بلند ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ فضائی آلوگی کے سبب اموات کی شرح بالخصوص جنوبی اور مشرقی ایشیائی ممالک میں بلند ہے جہاں گنجان آبادی ہے۔محققین کے مطابق آلودگی کا آسان ہدف وہ لوگ ہوتے ہیں جو دمے جیسی پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔دوسری جانب ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سگریٹ کے فلٹر اور پیکنگ میں موجود پلاسٹک کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سالانہ 26 ارب ڈالر جبکہ ہر 10 سال میں 186 ارب ڈالر مالیت کے نقصان کا سبب بن رہی ہے۔ یہ مالی نقصان کچرے کا بند و بست کرنے اور عالمی سطح پر آبی ماحول کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں ایک بار استعمال کیے جانے والے پاسٹک کے استعمال میں کمی یا اس پر پابندی کے حوالے سے پالیسیوں کے لیے بڑے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن سگریٹ میں استعمال ہونے والیے لاسٹک کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ سگریٹ کا فلٹر دنیا میں بطور کچرا سب سے زیادہ اکٹھی ہونے والی شے ہے اور اسے ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک سے بنایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ کے فلٹر کو تحلیل ہونے میں تقریباً 10 سال کا عرصہ لگتا ہے۔