مزید خبریں

Jamaat e islami

اسرائیلی دہشت گردی عروج پر، ایک روز میں 700شہادتیں

غزہ /واشنگٹن/ویٹی کن سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ کے سرکاری میڈیا کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وحشیانہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 700 سے زاید فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے، غزہ کے جنوبی حصوں پرشدید بمباری جاری ہے، سیکڑوں فلسطینی زخمی۔ مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپہ،خان یونس اور جبالیہ میں پناہ گاہوں پر بھی صہیونی حملے، کئی عمارتیں تباہ،متعدد زخمی دب گئے، امدادی کارکنوں کی زخمیوں تک رسائی مشکل ہوگئی، شہداکی تعداد 16 ہزار سے متجاوز، امریکی کانگریس میں غزہ میں جاری بمباری پر احتجاج، امریکا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ادھر حماس کی صہیونی فوج کے خلاف مزاحمت جاری ہے جس میں مزید 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے،حماس نے سیز فائر تک قیدیوں کاتبادلہ روکنے کااعلان کیا ہے۔دوسری جانب برطانیہ نے یرغمالیوں کی تلاش کے لیے طیاروں سے غزہ کی جاسوسی کافیصلہ کیا ہے جبکہ پوپ فرانسس کی جانب سے سیزفائرکی اپیل کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گنجان آباد جنوبی حصوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں شمالی غزہ سے جبری انخلا کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہیں، صیہونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فورسز کی خان یونس کے علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ ترین کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کر 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ خان یونس میں قطری تعاون سے تعمیر “حمد سٹی ” کی تباہی کے ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے اور ترک ٹی وی کی صحافی ربا خالد لائیو کوریج کے دوران اپنا گھر تباہ ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں۔ ادھر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپا مارا، شیخ عکرمہ صابری مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور فلسطینی علما اور مبلغین کی انجمن کے بانی و صدر بھی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے، فلسطینی تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی وڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال کو ‘ناقابل تصور’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی غزہ میں نصراسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں، اسپتال میں گنجائش سے3گنا زاید مریض موجود ہیں، مریضوں کا علاج زمین پر کیا جارہا ہے اور مریض درد سے چیخ رہے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے ہزاروں بچوں کا بچپن چھین لیا ہے، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے کہیں بچے والدین تو کہیں والدین بچوں سے بچھڑ گئے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے سے ریسکیو کیے گئے زخمی بھائی بہن کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں زخمی بہن بار بار اپنے زخمی بھائی سے اپنے خاندان کی خیریت کے بارے میں پوچھ رہی ہے لیکن بھائی کے پاس زخمی بہن کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔ غزہ کے سرکاری اہلکار کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زاید افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ حملوں میں غزہ کے 100 سے زاید ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں، ان میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری بھی شامل ہے۔دوسری جانب امریکی کانگریس میں رکن اسمبلی رشیدہ طلیب نے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی نوجوانوں کو چاہے اسرائیل میں قتل کیا جائے یا کوئی نسل پرست امریکا میں کسی فلسطینی کو مار دے، دونوں یکساں جرم اور قابل مذمت ہیں۔ امریکی کانگریس کی فلسطینی نژاد رکن رشیدہ طلیب نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کا روایتی رومال پہن رکھا تھا۔ امریکی رکن پارلیمنٹ رشیدہ طلیب نے اسمبلی میں کہا کہ امریکا میں ہونے والے اسلامو فوبیا واقعات تشویش ناک ہیں قتل اور زخمی کیے جانے والا کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ عربی زبان بولتے تھے اور فلسطینی تھے۔ مسلم رکن اسمبلی نے کہا کہ امریکی عہدیدار فلسطینیوں کے خلاف غیر انسانی بیانات دیکر تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسلاموفونیا اور نفرت کی آگ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ رشیدہ طلیب نے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنا دہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ فلسطینیوں پر ظلم اسرائیل میں ہو یا امریکا میں، قابل مذمت ہے۔جبکہ امریکا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ امریکی سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ اخلاقی ذمے داری کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔ امریکی سیکرٹری دفاع نے کیلی فورنیا میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم عام شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالتے رہیں گے۔ یہ نہ صرف اہم ترین کام ہے بلکہ بہترین حکمت عملی بھی ہے۔ لائیڈ آسٹن نے کہا کہ آپ یہ جنگ صرف شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنا کر ہی جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نوع کی جنگ میں عام شہری آبادی کو مرکزی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور اگر اس آبادی کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو پھر اس حکمت عملی سے فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔علاوہ ازیں عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔ پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ جنگ سے انسانیت کو خطرات لاحق ہیں، غزہ کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں جان سے جانے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار افسوس کرتا ہوں ، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ، بات چیت کے تحت اس تنازع کو فوری طور پر حل کیا جائے۔