مزید خبریں

Jamaat e islami

سندھ کابینہ: سیلاب سے بچاؤ کیلیے 11.79 ارب قرض لینے کی منظوری

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کی صوبائی نگراں کابینہ نے 2 گھنٹے سے زاید جاری رہنے والے اجلاس میں 24 ایجنڈوں پر مشتمل آئٹمز پر بحث کی اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی بھرتی اور سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر عملدرآمد کیلیے 11.97 ارب روپے کا قرضہ حاصل کرنے اور رینجرز کی استعداد کار بڑھانے کیلیے 357 ملین روپے کی منظوری اور پولنگ کیلیے اسکولوں کی مرمت و سہولیات فراہمی کیلیے 3.3 ارب کی منظوری جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔ جمعہ کو نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس(ر) مقبول باقر کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ محکمہ داخلہ نے بریفنگ میں کہا کہ محکمہ پولیس نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اے ایس آئی کی 1046 اسامیوں پر عام بھرتی کیلیے درخواست بھیجی ہے۔ صوبائی کابینہ نے 2001-05-29 کو اپنے اجلاس میں اے ایس آئی کی اسامی پر بھرتی کیلیے انٹرمیڈیٹ کو بنیادی تعلیمی قابلیت قرار دیا تھا اور اس کے بعد سے اے ایس آئی کی پوسٹ پر بھرتی انٹرمیڈیٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ پولیس (شہید، متوفی، مستقل طور پر غیرفعال یا نااہل کوٹہ) بھرتی رولز 2021 کے تحت ASIs کی پوسٹ کیلیے مطلوبہ اہلیت گریجویشن ہے جبکہ 29 مئی 2001ء کے کابینہ کے فیصلے کے تحت مطلوبہ اہلیت سیکنڈ کلاس انٹرمیڈیٹ ہے۔ کابینہ نے اے ایس آئی کیلیے اہلیت کا معیار گریجویشن طے کیا اور ان کی بھرتی سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائے گی۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے کابینہ کو بتایا کہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایگزیکٹو انجینئرز نے ناپید سہولیات کے باعث پولنگ اسٹیشن کے طور پر استعمال کیے جانے والے اسکولوں کی نشاندہی کی۔ کمیٹیوں نے 9901 اسکولوں کی نشاندہی کی جن میں کراچی میں 1015، حیدرآباد میں 4520 اور سکھر میں 4366 اسکول شامل ہیں جن کی مرمت کے ساتھ ساتھ وہاں سہولیات کی فراہمی کی ضرورت ہے، مرمت اور دیکھ بھال کیلیے تجویز کردہ بجٹ میں 3.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کابینہ نے تجویز کی منظوری دے دی۔ محکمہ داخلہ نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان رینجرز نے واٹر کینن، کوئیک رسپانس فورس کی گاڑیوں اور قابل اعتماد مواصلاتی آلات سے لیس ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات کو اپ گریڈ کرنے کیلیے 3.57 ملین روپے کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ کابینہ نے معاملے پر تبادلہ خیالکرکے فنڈز کی منظوری دی۔