مزید خبریں

Jamaat e islami

سکھر، سیپکو انتظامیہ نے صارفین کی زندگی عذاب بنا دی

 

سکھر (نمائندہ جسارت) سیپکو سکھر انتظامیہ سب ڈویژن بندر روڈ قاسم آباد فیڈر نے صارفین کی زندگی عذاب بنادی، رات بھر بجلی غائب رکھنا معمول، نیندیں متاثر ہونے سے لوگ ذہنی امراض کا شکار ہونے لگے، معذور، بزرگ، خواتین و بچے اذیت ناک صورتحال سے دوچار، وولٹیج کی کمی و بیشی سے برقی آلات بھی خراب ہورہے ہیں، ایک فیڈر میں دیگر تین فیڈرز کے کنکشن شامل کیا جانے کا انکشاف، بل ادا کرنے والے صارفین دہرے عذاب میں مبتلا، متاثرہ افراد نے سیپکو انتظامیہ کا قبلہ درست نہ ہونے کی صورت میں ایس ڈی او، لائن سپرنٹنڈنٹ کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا۔تفصیلات کے مطابق سکھر و نواحی علاقوں میں بھی سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی طلب و رسد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود بجلی چوری کرانے میں ملوث سیپکو کے بعض افسران و اہلکار لائن لاسز کو پورا کرنے کے لیے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیپکو سب ڈویژن بندر روڈ فیڈر قاسم آباد کے علاقے نواں گوٹھ کے مکین سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، جہاں رات رات بھر بجلی غائب رہتی ہے، گزشتہ شب رات 7بجے بند ہونے والی رات دوپہر 12بجے بحال کی گئی، 15-15گھنٹے تک بجلی کے طویل بریک ڈاؤن سے علاقہ مکینوں کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری، یوسی نواں گوٹھ کے چیئرمین و سماجی رہنما ذاکر بندھانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی او جمیل چنا، ایل ایس مقصود بھٹی نے رشوت کے عوض پورے علاقے کو اپنی بھینٹ چڑھا رکھا ہے، علاقے میں معذور ہیں، بیمار ہیں، جن کا کوئی خیال نہیں، ساری ساری رات بجلی نہیں ہوتی، ساری بدمعاشی ایس ڈی او کررہا ہے، قاسم آباد فیڈر میں تین تین دیگر فیڈرز شامل کررکھے ہیں، ملٹری روڈ، سائٹ، آدم شاہ کالونی فیڈرز کو قاسم آباد فیڈر میں شامل کررکھا ہے، ان علاقوں کی ماہانہ مل کر کھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 14 دسمبر کو لوگوں کو بل دیے گئے جو کہ آخری تاریخ ہے، تاکہ اس علاقے کے لوگوں کو ڈیفالٹر دکھایا جاسکے، بل بھرنے والے عذاب میں ہیں جو نہیں بھر رہے ہیں، وہ عیش کررہے ہیں، زیادہ تر وقت بجلی بند رہتی ہے، جب بجلی آتی ہے تو وولٹیج کم ہوتے ہیں، برقی آلات ناکارہ ہورہے ہیں۔ انہوں نے سیپکو چیف، سپرنٹنڈنٹ انجینئر، ایکسیئن ودیگر اعلیٰ افسران سے اپیل کی کہ مذکورہ افسران کی زیادتیوں کا نوٹس لیکر اس کیخلاف کارروائی کی جائے بصورت دیگر ہم متعلقہ افسران کیخلاف عدالت سے رجوع کریں گے اور ان کی رشوت وصولی کے ثبوتوں کے ساتھ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔