مزید خبریں

Jamaat e islami

پاک افغان فورسز میں جھڑپیں ،ایک جاں بحق ، 15 زخمی

چمن،اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) پاک افغان فورسز میں جھڑپیں، ایک جاں بحق،15 زخمی۔پاکستانی ناظم الامور سیکورٹی یقین دہانی تک افغانستان نہیں جائیں گے،افغان حکام سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنائیں،ترجمان فتر خارجہ۔تفصیلات کے مطابق چمن میں پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ اور گولہ باری ہوئی، سرحد پار سے افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق اور 15پاکستانی شہری زخمی ہوگئے۔ پاک افغان بارڈر کلی شیخ لعل محمد پر باڑ کے تنازع پرفائرنگ شروع ہوئی۔مقامی ڈپٹی کمشنر حمید زہری کے مطابق چمن میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کی شہری آبادی پر گولے فائر کیے گئے جبکہ کئی گھروں پرگولیاں بھی گری ہیں جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور خواتین و بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔لیویز حکام کے مطابق سرحد پار سے جارحیت کے ایک اور واقعے میں افغان فورسز نے چمن بارڈر پر پاکستان پر مارٹر گولے داغے، 15 زخمیوں کو ڈی ایچ کیواہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔لیویز حکام نے بتایا کہ گولے سرحد کے ساتھ موسیٰ کلی میں شہری بستی پر گرے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔لیویز حکام کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پاکستان کی مسلح افواج نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا ہے۔انتظامیہ نے پاکستان کی جانب سے چمن شہر میں سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے ہیں اور عوام کو بارڈر علاقوں سے دور رہنے کی اپیل بھی کی ہے۔پاک افغان بارڈر چمن میں جھڑپوں پر سیکرٹری صحت بلوچستان صالح محمد ناصر نے کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نفاذ کردی۔ سرجنز، آرتھو پیڈک سرجنز، انستھزیا اسپیشلسٹ دیگر طبی عملے مع ادویات پر مشتمل ٹیم کو چمن روانہ کردیا گیا۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے افغانستان کی حدود سے ہونے والی فائرنگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، پاک فوج اپنی سرحد کا دفاع کرنا جانتی ہے، اس طرح کے واقعات کا دوبارہ ہونا امن دشمنی ہے، ضلعی انتظامیہ واقعے کے زخمیوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کرے۔واضح رہے کہ گیارہ دسمبر کی شب افغان بارڈر فورسز کی جانب سے بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ سے چمن میں 5 شہری شہید اور 17 افراد زخمی ہوگئے تھے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی ناظم الامور سکیورٹی کی یقین دہانے ہونے تک افغانستان نہیں جائیں گے۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے بتایا کہ چمن واقعے پر پاک افغان حکام رابطے میں ہیں، ہم چاہتے ہیں پاکستانی سفارت خانے اور سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے، افغانستان کے لیے پاکستانی ناظم الامور تاحال پاکستان ہی میں ہیں اور جب تک سکیورٹی معاملات پر یقین دہانی نہیں کروائی جاتی تب تک وہ پاکستان ہی میں رہیں گے۔