مزید خبریں

Jamaat e islami

سیاسی و فوجی قیادت کی نظریہ پاکستان سے بے وفائی سقوط ڈھاکا کا سبب بنی

لاہور (رپورٹ: حامد ریاض ڈوگر) سقوط ڈھاکا پاکستان کی تاریخ کا ایسا باب ہے جس کا تذکرہ جب بھی کیا جائے ہر سچے پاکستانی کا دل دکھی ہو جاتا ہے اس سانحہ کا بنیادی سبب سیاسی اور فوجی قیادت کی نظریۂ پاکستان سے بے وفائی تھی جس کے باعث محرومیوں نے جنم لیا اور ان محرومیوں کا ازالہ کرنے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا جس سے نفرت نے فروغ پایا اندرون ملک ذوالفقار علی بھٹو اور یحییٰ خان کی ہوس اقتدار اور بیرونی قوتوں میں بھارت، روس اور امریکا نے پاکستان توڑنے کی سازش کی تکمیل میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر مولانا محمد جاوید قصوری، دنیا میڈیا گروپ کے گروپ ایڈیٹر سلمان غنی اور ممتاز دانشور۔ کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی فاروق نے ’’جسارت‘‘ کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ آپ کی نظر میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کیا تھے ؟ امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب مولانا محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سقوط مشرقی پاکستان کے باب کا جب بھی تذکرہ کیا جائے ہر سچے پاکستانی کا دل دکھی ہو جاتا ہے اس سانحہ کا بنیادی سبب نظریۂ پاکستان سے بے وفائی تھی جو ملک کی سیاسی و فوجی قیادت اور افسر شاہی نے مل کر کی،مشرقی پاکستان کے لوگوں نے اس نظریہ کی خاطر سب سے
زیادہ قربانیاں دی تھیں جب اس نظریۂ سے دوری اختیار کی گئی تو یہ سانحہ رونما ہوا، پاکستان کی اس وقت کی سیاسی قیادت اور فوجی آمر کی ہوس اقتدار، ہٹ دھرمی اور غیر ذمے دارانہ کردار بھی سقوط مشرقی پاکستان کے اہم اسباب میں سے ہیں، مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے جمہوری حقوق نہ دینے کی روش میں بھی ذوالفقار علی بھٹو اور یحییٰ خاں برابر کے ذمے دار تھے جس نے اس خطہ کے لوگوں کو احساس محرومی میں مبتلا کیا جمہوری اصولوں کا بنیادی تقاضا تھا کہ اکثریت رکھنے والوں کو ملک کا اقتدار سونپ دیا جاتا مگر بھٹو اور یحییٰ نے اس سے انکار کیا اس طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی سیاسی قیادت اور فوجی آمریت کا مشترکہ جرم اور پاکستان کی ناکامی کا بنیادی سبب تھا، حمود الرحمن کمیشن کے جو حصے اب تک سامنے آئے ہیں ان میں بھی انہی باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دنیا نیوز اور روزنامہ دنیا کے گروپ ایڈیٹر سلمان غنی نے ’جسارت‘ کے استفسار پر بتایا کہ مسلم لیگ نے 1906ء میں بنگال میں جنم لیا تھا وہاں کے لوگ ہم سے زیادہ نظریاتی تھے مگر جب ملک کے اقتدار پر قابض طبقات نے اس نظریہ کو چھوڑ کر من مانی شروع کر دی تو پاکستان کے مثبت ثمرات کے بجائے محرومیوں نے جنم لیا مگر ان کے ازالہ کے بجائے احساس محرومی کے شکار عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا اس صورت حال سے علیحدگی پسند قوتوں نے فائدہ اٹھایا۔ غور کیا جائے تو اس وقت پاکستان ٹوٹنے کا سبب بھی ’’ایکسٹینشن‘‘ کی خواہش تھی جس میں یحییٰ خان بری طرح مبتلا تھے انہوں نے اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل نہ کر کے ملک توڑنے کی راہ ہموار کی۔ دوسری جانب جو قوتیں ملک کو متحد رکھنا چاہتی تھیں ان کی حوصلہ شکنی کی گئی اور ان کی ملک کو متحد رکھنے کی جدوجہد میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ممتاز دانشور کئی کتب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی فاروق نے رائے دی کہ پاکستان کے تمام مسائل کا سبب جاگیرداری اور پیر پرستی ہے، جاگیرداری نے ملک کو معاشی طور پر تباہ کیا جب کہ پیر پرستی نے دینی اور اخلاقی لحاظ سے قوم کا دیوالیہ نکالا جہاں تک مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا تعلق ہے اس کی سازش میں اندرونی اور بیرونی دونوں قوتیں شامل ہیں اندرون ملک جاگیردار بھٹو نے فوجی آمر یحییٰ خان سے مل کر پاکستان کو دو لخت کیا، بھٹو کو سیاست اور اقتدار کے راستہ پر لگانے میں ایوب خان نے مجرمانہ کردار ادا کیا۔ جنرل یحییٰ خان ہر وقت شراب کے نشے میں مدہوش رہتا تھا۔ بھٹو نے اس سے فائدہ اٹھایا وہ ملک توڑنے کا سب سے بڑا ذمے دار ہے اس نے انتخابات کے آغاز ہی سے مشرقی پاکستان میں کوئی ایک بھی امیدوار نامزد نہیں کیا یوں مشرقی حصے سے علیحدگی کی بنیاد رکھی اور ملک کی تباہی میں سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا مگر بدقسمتی سے آج بھی یہی خاندان ملک کی سیاست پر غالب ہے، ملک بچانے کے لیے اس خاندان سے نجات ضروری ہے دوسری جانب ہمارے دشمن بھارت نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور امریکاو روس سے مل کر ملک توڑنے کے لیے اپنا پورا زور لگا دیا ملک کے اندرونی حالات نے اس کی سازش کامیاب بنانے میں بھر پور مدد کی۔