مزید خبریں

Jamaat e islami

حیدرآبادکی ترقی کیلیے بڑے منصوبوں کا اعلان

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) چیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے حیدرآباد کے دورے کے دوران ایوان صنعت وتجارت حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد شہر میرا آبائی شہر ہے یہ شہر کراچی کے بعد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن کچھ وجوہات کے باعث جو ترقی اس شہر کو کرنی تھی وہ نہیں کر سکا اورشہر کو بنیادی سہولیات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ شہر کی ترقی کیلیے بڑے منصوبے متعارف کروا رہی ہیں ، تمام اسٹیک ہولڈرز کو حیدرآباد کی ترقی کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں حیدرآباد ترقی نہیں کرسکا، ہمیں اچھے تعلیمی ادارے قائم کرنا ہوں گے ، حکومت سندھ نے جدید تعلیم کی فروغ کے لیے آئی ٹی کے شعبے میں سینٹرز قائم کئے ہیں جس سے آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کو جدید مہارت حاصل ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال حیدرآباد کی کارکردگی اطمینان بخش ہے تاہم مریضوں کا کافی بوجھ ہے اس لیے بھٹائی ہسپتال سمیت تعلقہ ہسپتالوںمیں سہولیات میں مزید اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ واسا میںاصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر کر کے لوگوں کے پینے کے صاف پانی کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ ڈویژنل کمشنر حیدرآباد اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انفراسٹرکچرکو معیاری بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم اور فروغ دینے میں تاجر برادری کا اہم کردار ہوتا ہے سندھ کی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا اور کہا کہ روز گار کے مواقعے پیدا کرنا ہوں گے تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں چیف سیکرٹری سندھ سہیل احمد راجپوت نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مشکلات کے باوجود سندھ حکومت الیکشن میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی اور سیکورٹی کا مسئلہ ہم اسے حل کریں گے،حیدرآباد میں تعلیم، صحت، نکاسی آب، سیوریج، سڑکوں، ٹریفک، تفریح، کھیلوں سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں وہ ترقی نہیں ہوسکی جو ہونی چاہیے تھی ،حیدرآباد میرا شہر ہے لیکن افسوس ہوتا ہے جب حیدرآباد کا دیگر بڑے شہروں کے ساتھ متوازنہ کرتا ہوں، سندھ میں تاریخی بارشوں سے ایک کروڑ افراد، 22 لاکھ کچی بستیاں اور 37 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، اس وقت اس میں 500 ملین ڈالر کا خسارہ ہے۔ یہ بیان انہوں نے گزشتہ روز حیدرآباد پریس کلب کی چائے پارٹی کی دعوت میں شرکت کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے دیا۔دریں ا ثناء چیف سیکرٹری سندھ محمد سہیل راجپوت نے گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد کا دورہ کیا۔یونی ورسٹی پہنچنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف نے استقبال کیا۔انہوں نے وائس چانسلر کے ساتھ یونی ورسٹی کا دورہ کیا، دورے کے دوران اکیڈمک بلاک، ای کلاس رومز، لیبارٹریز، کانفرنس روم، اسمبلی ہال، اسپورٹس کمپلیکس اور جاری ترقیاتی کام کا معائنہ کیا۔قبل ازیںچیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں لائبریریز ہونی چاہیے کیوں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم کا حصول لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی انتظامیہ حیدرآباد کی جانب سے تعمیر کی گئی شاہ عبداللہ لطیف بھٹائی پبلک لائبریری لطیف آباد کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے نمائندوںسے باتیں کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ لائبریری تو قائم کر دی گئی ہے تاہم اس میں جلد از جلد کتابیں فراہم کی جائے گی اور سی ایس ایس کی تیاری کے لیے ایک الگ کارنر بنایا جائے جبکہ لائبریری کی بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے محکمہ ثقافت کے سپرد کر رہے ہیں۔