مزید خبریں

Jamaat e islami

باڈہ،مفت تعلیم فراہم کرنے کا حکومتی اعلان نظر انداز

باڈہ (نمائندہ جسارت) انٹر تک طلبہ و طالبات کو فری آف کوسٹ تعلیم فراہم کرنے والے سندھ حکومت کے اعلان کو لاڑکانہ بورڈ نے ٹھکرادیا۔ بورڈ ڈائریکٹر نے ہزاروں روپے امتحانی فیس وصول کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ لاڑکانہ بورڈ کے ایسے تعلیم دشمن عمل کے خلاف باڈہ شہر کے سیاسی سماجی رہنماؤں کامریڈ قادر بروہی، اصغر نوناری، ڈاکٹر واحد بخش سولنگی، حاجی امداد حسین سیال، ایڈووکیٹ ایم ہاشم چانڈیو، ایڈووکیٹ صوفی سعید احمد کولاچی، پرویز عاشق حسین پھلپوٹو، حاجی گدا حسین تنیو اور دیگر رہنماؤں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برساتوں کے بعد جہاں قوم بے گھر ہوئی ہے، فصلیں بھی برساتی پانی میں بری طرح تباہ ہوگئیں ہیں گھروں میں فاقے پڑے ہوئے ہیں عام آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ ایسے میں لاڑکانہ بورڈ کے ڈائریکٹر نے نوویں کی امتحانی فیس 1100 روپے اور میٹرک کی امتحانی فیس 2600 روپے وصول کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے عوام کی تکالیف میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ یہ ایک تعلیم دشمن عمل ہے اور ہم سخت الفاظ میں اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ایک طرف سندھ حکومت تعلیم کو عام کرنے کی بات کرتی ہے خاص طور پر بچیوں کی تعلیم پر زور دیتی ہے دوسری طرف یہ تعلیم دشمن عمل کرکے وہ غریب طلبہ و طالبات سے تعلیم کے حقوق چھینتی ہے۔ سندھ حکومت اور لاڑکانہ بورڈ کے غیرذمے دارانہ عمل سے لاڑکانہ کے تمام طلبہ و طالبات میں بے چینی کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر محکمہ تعلیم اور دیگر اعلیٰ افسران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم دشمن نوٹس فی الفور واپس لیکر طلبہ و طالبات میں پھیلی بے چینی ختم کی جائے اور اگر سندھ حکومت اس عمل میں ملوث نہیں ہے تو وہ لاڑکانہ بورڈ کے ڈائریکٹر کے خلاف کارروائی کرکے سزا دے اور فری آف کوسٹ تعلیم فراہم کی جائے تاکہ غریب طلبہ و طالبات تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں۔