مزید خبریں

Jamaat e islami

واشنگٹن میں پاکستان کی سرکاری عمار ت بیچنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ صباح نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کی سرکاری عمارت بیچنے کا فیصلہ کرلیا۔ مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ 2010ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے واشنگٹن میں پاکستان کی 2 عمارتوں کی تزئین و آرائش کے احکامات جاری کیے تھے، ان میں سے ایک عمارت مکمل ہو چکی ہے جو کرایہ پر دینے کے لیے تیار ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزارت خارجہ اس حوالے سے کام کر رہی ہے، ایک عمارت مرمت نہیں ہو سکی، امریکا نے 2018ء میں اس عمارت کا سفارتی درجہ ختم کر دیا تھا۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ 2019ء سے لے کر اب تک 13 لاکھ ڈالر حکومت پاکستان ان عمارتوں کے ٹیکس کی مد میں ادا کر چکی ہے، اگر یہ عمارت فروخت نہیں کی جاتی تو ہر ماہ ایک لاکھ ڈالر ہمیں ادائیگی کرنا پڑے گی۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ انٹر منسٹیریل کمیٹی نے اس عمارت کی فروخت کا فیصلہ کیا ہے، شفاف طریقے سے بڈنگ ہوئی ہے جو پچھلی بڈنگ سے زیادہ ہے، کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس عمارت کو فوری طور پر فروخت کر دیا جائے تاکہ مزید ٹیکس کی مد میں ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ یہ فیصلے بروقت ہو جاتے تو آج کافی چیزیں بہتر ہو سکتی تھیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے امور نوجوانان شزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے نواز شریف کے منصوبوں کی تختیاں تبدیل کیں، ہمارے شروع کیے گئے کئی منصوبے بند کیے، یوتھ پروگرام کا نام بدل کر کامیاب جوان رکھا اور 80 فیصد منصوبے کو بند کر دیا، منصوبوں کی تختیاں تبدیل کرنے سے منصوبے چلانے اور انہیں آگے بڑھانے کی اہلیت نہیں آجاتی، عمران خان نے معاشرے اور نوجوانوں کو فساد، تقسیم اور انتشار کا شکار کیا، عمران خان کی نیت ہوتی تو وزیراعظم ہائوس کو سازشوں اور سیاسی انتقام کا گڑھ نہ بناتے، عمران خان طیبہ گل کو اغوا کرسکتے تھے لیکن کمپنیوں کو بلا کر نوجوانوں کے روزگار کے لیے بات نہیں کی، یہ اس لیے ہوا کیونکہ ملک پر وزیراعظم نہیں بلکہ پروپیگنڈہ گروہ مسلط تھا جس نے اپنے 4 سال میں معیشت اور روزگار تباہ کیا۔